ایک طلاق رجعی کے واقع ہونے کا حکم اور عدت کے دوران رجوع کا مسنون طریقہ
کیا ایک طلاق سے عورت نکاح سے باہر ہو جاتی ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید نے اپنی منکوحہ کو صرف ایک مرتبہ ”طلاق“ کہہ دیا۔ اس کہنے پر کیا عورت نکاح سے باہر ہوگئی ؟ شرع سے مکمل جواب دے کر اجر عظیم حاصل فرما ئیں اور کفارہ ادا کرنے کی بابت قرآن وحدیث سے ثبوت دے کر جواب تحریر فرمائیں اور اسی دن طلاق کا لفظ کہہ دینے کے بعد چند لمحہ کے گزرنے پر زید نے اپنی بیوی سے اور گھر میں کہا کہ میں آج تمہارے باپ کو بلا کر اُن سے کہوں گا کہ روزانہ کا یہ کہنا سن ختم ہو جائے تو درست ہے۔ برائے مہربانی جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں ۔ فقط ! لمستفتى : محمد عمر گڑھی رقیع آباد، بریلی شریف
الجواب: کفارہ کچھ نہیں سوائے تو بہ کے۔ جبکہ طلاق بے وجہ شرعی دی ہو اور صورت مسئولہ میں ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی جبکہ عورت مدخولہ ہو یا اس سے خلوت صحیحہ کر لی ہو۔ عدت کے دوران رجعت کا اختیار ہے جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ شوہر دو مرد عادل یا ایک مرد دو عورتیں عدول کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ۔ اور بعد عدت بہ رضائے زن بہ مہر جدید نکاح کرسکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۷ محرم الحرام ۱۳۹۷ھ