دھوکہ دے کر طلاق نامہ پر انگوٹھا لگوانے کا حکم اور اس کا شرعی اثر
بعد سلام کے آپ کی خدمت میں گزارش یہ ہے کہ عمرو نے اپنی زوجہ کے ساتھ غلط برتاؤ کیا۔ لہذا زوجہ کے ماں باپ نے اس کی رخصتی نہیں کی تو عمرو نے چند بد معاشوں کو لانا شروع کر دیا تو مجبوراً اس نے ایسا کیا اور کہا کہ بھائی تمھاری رخصتی ہو جائے گی لیکن پہلے انگوٹھا کا نشان دو جس سے مضبوطی ہو جائے کہ آپ لڑکی کو بیجا پریشان نہیں کرو گے۔ لہذا انگوٹھا لینے کے لئے پیش امام نے اس کا مضمون بنایا کہ یہ ایسا آدمی ہے اور ایسا غلط کام کرتا ہے، مضمون لکھ کر پیش امام نے لکھ دیا کہ عمرو نے اپنی زوجہ کو طلاق دے دی۔صرف ایک ہی بارلکھا، ۳ بار نہیں لکھا کہ عمرو نے اپنی زوجہ کو طلاق دی۔ جب ایسا کیا تو وہ برادران کے پاس گیا اور برادران کولا یا اور کہا کہ بھائی میری رخصت کر واد و تو برادران جو آئے تھے ان کی باتوں پر وداع کر دی۔ اب میری آپ سے گزارش یہ ہے کہ میری غلطی کو معاف کرتے ہوئے یہ فرمادیں کہ یہ جو ایک بار میں نے لکھ دیا کہ عمرو نے اپنی زوجہ کوطلاق دی اور عمرو کی زبان سے ایک بار بھی نہیں کہلوایا۔ ان باتوں سے میرا نکاح تو ختم نہ ہوا۔ میری غلطی کو معاف فرماتے ہوئے جواب لکھ دیں۔ میرا پتہ یہ ہے: لمستفتی: فخرالدین موضع بلاس پور ضلع پیلی بھیت
الجواب: بغیر عمرو کی اجازت کے اسے دھوکہ دینے کے لئے طلاق لکھی تو تو بہ لازم ہے، نکاح ختم نہ ہوا کہ دھوکہ دینا حرام ہے۔ حدیث میں ہے: "من غشنا فليس منا" جومسلمانوں کو دھوکہ دے وہ ہم سے نہیں۔ پھر اگر عمر و نے بعد علم بہ رضا ورغبت انگوٹھا لگا یا تو ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔ عدت کے اندر عمر وکو اختیار ہے کہ اس سے رجعت کرے اور اگر اسے مضمون کا علم نہ ہوا تو طلاق واقع نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۴ رذوالحجہ ۱۳۹۶ھ