بیوی کی طرف نسبت کیے بغیر محض تین بار لفظ طلاق کہنے کا حکم
۱۵ رذی الحجہ ۱۴۰۱۲ھ/ ۲۸ / جون ۱۹۹۱ء مجھے غصہ آیا اور میں نے تین بار لفظ طلاق کہہ دیا یہ نہیں کہا کہ میں نے تجھ کو طلاق دی! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید اور اس کی بیوی کے درمیان جو نا اتفاقی کے واقعات در پیش آئے اس کے بارے میں میں خدا کو گواہ اور اس کے رسول کو حاضر و ناظر جان کر بیان کرتا ہوں : میری عدم موجودگی میں میری بیوی اور گھر والوں میں کچھ تکرار ہوگئی اس پر میری بیوی نے کہا گھر والوں سے کہ ان باتوں سے کیا فائدہ تم میری طلاق دلوا دو۔ شام کو جب میں گھر واپس آیا تو میرے گھر والوں نے مجھ سے ذکر کیا۔ میں نے بیوی سے واقعات معلوم کئے اور یہ بھی پوچھا کہ تم نے طلاق لینے کے بارے میں کہا تھا ؟ اس نے اقرار کر لیا۔ اس کو سن کر مجھے غصہ آیا اور میں نے تین بار لفظ طلاق کہہ دیا۔ یہ نہیں کہا کہ میں نے تجھ کو طلاق دی۔ لہذا حکم
الجواب: صورت مسئولہ میں زید کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور بیوی اس پر ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اس کو حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ بعد جماع جب اسے طلاق دے دے تو عورت عدت کے بعد چاہے تو پہلے سے نکاح کرلے۔ قال تعالى: {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ الآية } (1) وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ،، لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله