سارے گواہ متفق ہوں فبیہا ورنہ حکم طلاق اقرار شوہر کے مطابق ہوگا!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: (۱) زید نے اپنی بیوی منکوحہ منی کو مخاطب کر کے کہا کہ : میں نے طلاق دی ، میں نے طلاق دی۔ (۲) دوسری بیوی صغریٰ کو بھی زید ہی نے ایک بار نام لے کر کہا کہ : میں نے طلاق دی، دی، دی دی۔ اور ایک ہی سانس میں ادا کیا۔ اب صورت مسئولہ میں مدلل جواب دینے کی زحمت گوارہ کریں کہ ان دونوں بیوی پر کئی کئی طلاقیں واقع ہوئیں۔ نمبر وار جواب عنایت فرما ئیں مگر پہلی بیوی منی کے لئے گواہان کا بیان ہے کہ تین مرتبہ میں نے طلاق دی“ کے الفاظ ادا کئے ۔ گواہ ایک مرد دو عورتیں ہیں مگر ان دو عورتوں کے علاوہ اور بھی دو چار عورتیں تھیں اور زید کا بیان ہے کہ میں نے دوہی دفعہ طلاق دی" کا لفظ ادا کیا ہے۔ اب اس صورت مسئولہ پر واقعی طلاق ہو گئی ؟ طلاق ہوگئی تو رجعی ہوئی یا مغلظہ؟ فقط والسلام! المستلقی مشکور احمد ، موضع رائے پور ڈاکخانہ امر یا پیلی بھیت
الجواب: (۱) صورت مسئولہ میں اس جگہ حاضر مرد اور عورتیں سب کا بیان ایک ہو کہ شوہر نے اپنی پہلی بیوی کو مخاطب کر کے تین مرتبہ الفاظ طلاق کہے تو تین طلاقیں اس پر واقع ہو گئیں اور وہ اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ اب بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی۔ قال تعالى: {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} () حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت کسی دوسرے سے نکاح صحیح کرے اور وہ اس سے کم از کم ایک مرتبہ جماع کرے پھر طلاق دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے پھر بعد عدت یہ شوہر اول سے نکاح کر لے۔حدیث میں ہے: ،، لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) اور اگر سب کا بیان ایک نہیں ہے تو شوہر کے اقرار کے بموجب دو طلاق رجعی کا حکم ہے اور اسے عدت میں اختیار رجعت کا ہے۔ اور رجعت کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ دومرد تقی پرہیز گار کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) صغری پر تین طلاقیں واقع ہو کر نکاح ختم ہو گیا۔ بعد عدت صغریٰ کو اختیار ہے کہ اس کے علاوہ جس سے چاہے نکاح کرے اور اس کے نکاح میں لوٹنا چاہے تو حلالہ ضرور ۔ اور اس کا طریقہ وہی جو سابق مذکور ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم ۲۶؍ جمادی الاولی ۱۳۹۶ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی