طلاق دے کر انکار کرنے سے حرام حلال نہ ہوگا! ہم پر اپنا مذ ہب لازم !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کہیں سے غصہ میں آیا اور آتے ہی کسی دوسرے آدمی سے کہتا ہے کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے آیا ہوں۔ اس کے بعد پھر دوسرے شخص کے پاس گیا اور اس سے بھی کہا کہ اگر میری بیوی نے میری مرضی کے خلاف ہماری لڑکی کی شادی کیا تو میں طلاق دے دوں گا۔ پھر تیسری جگہ گیا اور پھر زید نے کہا ایک آدمی سے کہ میں اپنی بیوی ہندہ کو طلاق دیکر آیا ہوں ۔ اور تین مرتبہ دے کر آیا ہوں اور اس کا نام ہندہ لے کر طلاق دے کر آیا ہوں ۔ پھر اس کی بیوی ہندہ سے ایک آدمی محمد میاں نام کا جا کر پوچھا کہ واقعی تمہارے شوہر نے تمہیں طلاق دی ہے؟ تو وہ عورت ہندہ کہتی ہے کہ نہیں ، مجھے طلاق نہیں دی ہے۔ اس کے بعد چند آدمی جمع ہوئے اور پنچایت ہوئی ، زید کو بلایا گیا اور زید سے پوچھا گیا کہ تم نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے؟ تو زید نے کہا کہ میں ایسی بات نہیں بولا ہوں یعنی طلاق نہیں دی ہے اور زید نے مجمع عام میں اقرار کیا کہ میں نے یہ نہیں کہا ہے بلکہ یہ کہا کہ اگر میری مرضی کے خلاف میری لڑکی کی شادی ہوئی تو طلاق دے دوں گا۔ اور جہاں لڑکی کی ماں رشتہ طے کئے ہوئے تھی اور اس کا باپ اس سے انکار کرتا تھا اس جگہ پرلڑکی کی شادی ہوئی جہاں پر اس کے باپ کی مرضی نہیں تھی اور پھر زید نے مجمع عام میں لوگوں سے معافی مانگی اور محمد میاں جو ہندہ سے جا کر پوچھا تھا کہ تمہارے شوہر زید نے تم کو طلاق دی ہے کہ نہیں تو وہ بولی کہ نہیں دی ہے اور محمد میاں مجمع عام میں لوگوں سے کہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک طلاق واقع ہوگئی اور امام شافعی کے نزدیک طلاق نہ ہوئی پھر اس کے بعد محمد میاں نے کہا کہ طلاق نہیں ہوئی اگر طلاق ہوگئی تو پنچایت کے لوگ جو سزا دیں گے وہ مجھے دیں گے کیونکہ زید انکار کر رہا تھا کہ میں نے طلاق نہیں دی ہے اس پر سب نے کہا کہ جب زید ا نکار کر رہا ہے تو طلاق نہ ہوگی اور زید نے جن لوگوں کے نزدیک طلاق کا لفظ کہا تھا وہ سارے آئے اور ہندہ اگر حاملہ ہے تو شریعت کا کیا حکم ہوگا؟ اور اگر حمل سے نہیں ہے تو کیا حکم ہوگا؟ دونوں باتیں لکھیں کہ حاملہ کے لئے کیا حکم ہے اور غیر حاملہ کے لئے کیا حکم ہے؟ اور محمد میاں نے جو یہ کہا کہ طلاق نہیں ہوئی کیونکہ زید انکار کر رہا ہے اور
الجواب:المستفتی: محمد میاں بمبئی کوہ نور شہر کہنہ، بریلی شریف زید نے اگر تین طلاق کا اقرار دو مرد عادل یا مجمع کثیر کے سامنے کیا تو تین طلاقیں ثابت ہوگئیں اور بیوی اس کے لئے حرام ہو گئی کہ بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔قال تعالى: (عَلى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ) () اور حلالہ یہ ہے کہ عورت کسی سے بعد عدت نکاح صحیح کرے اور وہ بعد وطی طلاق دیدے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو پھر عورت عدت گزار کر زید سے نکاح کرلے۔حدیث میں ہے: لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) اب اس کے انکار سے وہ اس کو حلال نہ ہو جائیگی اور یہ کہ امام اعظم کے مذہب پر طلاق ہوگئی اور امام شافعی کے مذہب پر نہ ہوئی یہ اختلاف میری نظر سے نہ گزرا۔ مدعی پر ثبوت ہے۔ اور اگر محض ناواقفی کی بنا پر کہا تو سخت گناہ گار ہے کہ بے علم کوفتوی دینا حرام ہے۔ حدیث میں ہے: من افتی بغیر علم لعنتهملئكةالسماء والارض(٣) بے علم کے جو فتوی دے اسے زمین و آسمان کے فرشتے لعنت کریں (1) سورة البقرة: ٢٣٠ (۲) جامع الترمذی، ابواب النكاح، ج ۱، ص ۱۳۳، مجلس بركات (٣) فيض القدير شرح الجامع الصغير من احاديث البشير النذير ج ۶، ص ١٠١ ، باب حرف الميم ، حدیث نمبر ۱ ۸۴۹، دار الكتب العلمية بيروت / كنز العمال، ج ۱۰، ص ۱۹۳، حدیث نمبر ۲۹۰۱۸، ابن عساكر عن علی مطبع موسسة الرسالة، بيروت بلکہ بالفرض واقعی اس مسئلہ میں امام شافعی کا قول ہے تو بھی اس پر فتوی دینا جائز نہیں کہ ہم امام اعظم کے مقلد ہیں ، انہیں کے مذہب پر عمل وافتاء کی گنجائش ہے۔در مختار میں ہے: وفى نكاح الخلاصة: لو قيل لحنفى ما مذهب الامام الشافعي في كذا؟ وجب أن يقول قال أبو حنفية كذا) واللہ تعالی اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ