حمل مانع وقوع طلاق نہیں، غیر نبی کے ساتھ علیہ الصلوۃ والسلام لکھنا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ: (1) زید نے اپنی بیوی حمیدہ کو حالت حمل میں طلاق دے دی تو کیا طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ از روئے شرع جواب عنایت فرمائیں۔ (۲) کیا حضرت حسن و حسین یا اور کسی اولیائے کرام یا شہدائے کرام کو یا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے علاوہ کسی کو علیہ السلام یا درود پڑھ سکتے ہیں؟ اس کا خلاصہ بیان فرمائیں۔ جیسے آج کل بہت سے لوگ یا بعض کتابوں میں یہ کھا جاتا ہے کہ حسن یا حسین کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھ دیتے ہیں اور لوگ اس پر حجت پیش کرتے ہیں صحیح جواب عنایت فرمائیں! طالب مولانا عبد المجید نعیمی، امام جامع مسجد کا شوده
الجواب: (1) حمل کی حالت میں طلاق دی، ہو گئی۔ جیسی اور جتنی طلاقیں دیں ہوں، ویسی اور اتنی واقع ہو گئیں۔ جمل مانع وقوع طلاق نہیں ۔ اور عدت حاملہ کی وضع حمل ہے۔ قال تعالى: {وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ } () (۲) صلاۃ وسلام کا صیغہ علی الاستقلال انبیائے کرام و ملائکہ عظام کے لئے مخصوص ہے۔ غیر نبی کے لئے نبی علیہ السلام کی تبعیت میں صلاۃ کا صیغہ استعمال کر سکتے ہیں۔ مستقل نہ کیا جائے۔ مثلاً صلی اللہ علی نبینا محمد وعلی ابن اکسین“ اور ” علی جدہ وعلیہ السلام کہہ سکتے ہیں ۔ تنہا حسین علیہ السلام کہنا شعار روافض ہے جس سے بچنا ضرور ۔ افادہ فی شرح الفقہ الاکبر علی القاری علیہ الرحمۃ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۸ محرم الحرام ۱۳۹۶ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم/ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی