تین طلاقوں کا اقرار یا شہادت موصول ہو تو رجعت نہیں ہو سکتی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید محمد فاروق ولد محمد صدیق ساکن بریلی محلہ کنور پور نے ۳ ستمبر ۱۹۸۱ء کو اپنی بیوی کو طلاق دی، تحقیقات پر معلوم ہوا تو محمد فاروق نے بتایا کہ میں نے دوبار طلاق دی اور جب کچھ معتبر لوگوں نے اس کی بیوی سے معلوم کیا تو بیوی نے بتایا کہ مجھے تین بار طلاق دی ہے اور یہ اس سے پہلے بھی مجھے طلاق دے چکے ہیں۔ اس کو میں نے دبا لیا اور کسی سے نہیں کہا لیکن محمد فاروق نے اپنے ایک عزیز کے یہاں بتایا کہ میں نے تین بار طلاق دی ہے یہ بات ( تین طلاق کی ) محمد فاروق کے پڑوس میں کچھ عورتوں نے سنا ہے۔ بیوی کو اس کے ماں باپ کے یہاں پہنچا دیا لیکن ارنومبر ۱۹۸۱ء کو وہ عورت پھر بغیر اپنے والد کی مرضی کے محمد فاروق کے یہاں آگئی اور ۲۶ نومبر ۱۹۸۱ ء کو رجعت کر لی۔ ایسی صورت میں کیا یہ رجعت جائز ہے۔ اگر نہیں تو ان لوگوں سے ملنا جلنا، سلام و کلام جائز ہے یا نہیں؟ اور جن لوگوں نے جان بوجھ کر رجعت کرائی ہے ان کے لئے کیا حکم شرع ہے؟ تفصیل سے جواب دیجئے ۔ فقط! المستفتى : محمد یوسف محله کنور پور، بریلی شریف
الجواب: اگر شوہر کا تین طلاقیں دینا یا تین طلاقوں کا اقرار شرعاً ثابت ہے تو رجعت نہیں ہوسکتی اور بیوی اس پر ایسی حرام کہ بے حلالہ اسے حلال نہ ہوگی اور اگر واقعہ یہ ہے کہ اس نے تین طلاقیں نہ دیں تو رجعت ہوگئی مگر عورت جبکہ تین طلاقوں کی مدعیہ ہے تو اسے حلال نہیں کہ شوہر کو خود پر قابو دے بلکہ اسے لازم ہے کہ اس سے دورر ہے۔ رد المحتار میں بزازیہ سے ہے : قالت طلقنی ثلاثا ثم ارادت تزويج نفسها منه ليس لها ،، ذالک اصرت علیه ام اكذبت نفسها ( ) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله