حالت حمل میں غصے کی حالت میں دی گئی تین طلاقوں کا حکم
یکم صفر المظفر ۰۲ ۱۴۰۲ھ جھگڑے کے بعد ناراض ہو کر تین مرتبہ طلاق دی بہت سے آدمیوں کے سامنے! علمائے دین با قاعدہ شریعت اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ : زید نے اپنی بیوی کولڑائی و جھگڑے کے بعد ناراض ہو کر تین مرتبہ طلاق دی بہت سے آدمیوں کے سامنے۔ زید کی بیوی قریب چار ماہ کی حاملہ ہے۔ اور اب زید بیوی کو رکھنا چاہتا ہے۔ دریافت طلب یہ ہے کہ با قاعدہ شریعت طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی؟ تحریر فر ما یا جاوے تا کہ اس پر عمل کیا جاوے۔ خادم: نصیر احمد محلہ کٹرہ چاند خاں، بریلی شریف
الجواب: صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع اور بیوی زید کے نکاح سے فوراً باہر اور اس پر ایسی حرام کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی۔ لہذا بعد وضع حمل زوجہ زید سے کوئی دوسرا نکاح کر کے جماع کرے پھر طلاق دے اور یہ عدت گزارے تو بعد عدت زید کو اس سے نکاح حلال۔ قال تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ- الآية } () واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴۰۲ھ ۶ رصفر المظفر ۰۲ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم