تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح کی ممانعت کا حکم
تین طلاق دے کر برسوں بعد رجعت چاہتا ہے تو کیا ایسا کر سکتا ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو ایک گھریلو جھگڑے کی بنا پر اس وقت تین طلاق دے دی جب کہ ہندہ دو مہینہ کی حاملہ تھی۔ بعدہ ہندہ کے ایک لڑکی ہوئی اور جوان ہونے پر ہندہ نے شادی کے کل اخراجات اٹھا کر لڑکی کی شادی کر دی۔ ہندہ بڑی محنت و مشقت سے اپنا گزر بسر کر رہی ہے۔ فی الحال زید موذی مرض لقوہ میں مبتلا ہے۔ جو اپنے سہارے کے لئے سابقہ بیوی ہندہ سے رجوع کرنا چاہتا ہے۔ براہ کرم شرعی حکم سے آگاہ کر یں۔ فقط احقر محبوب خاں، جگرسنگھ پور، کٹک
الجواب: صورت مسئولہ میں ہندہ کا نکاح زید سے بے حلالہ شرعا ممکن نہیں ۔ حلالہ یہ ہے کہ جب عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ عورت سے جماع کے بعد جب اسے طلاق دیدے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عدت کے بعد پہلے سے نکاح کرلے۔ قال تعالى: (على تنكِحَ زَوْجاً غیره )) وقال النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : ،، لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) ہندہ پر اس صورت میں پہلے شوہر کی عدت وضع حمل تھی جو گزرگئی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله