عورت کہتی ہے کہ طلاق نامہ شوہر نے لکھ کر میرے ہاتھ میں دیا جبکہ شوہر انکار کرتا ہے تو طلاق ہوگی کہ نہیں؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: خلیق النساء اول بارا اپنے سسرال گئی اور اس کے شوہر عبدالآ زاد سے اور اس سے کچھ تنازع ہوا پھر نویں دن خلیق النساء کے بڑے برادر محمد اسلام خلیق النساء کے سسرال لینے گئے تو خلیق النساء نے حسب ذیل تحریر کا ایک نامہ دیا۔ عبدالآزاد میں خلیق النساء کو طلاق دیتا ہوں اب لینے نہیں آؤں گا، عبدالآزاد میں خلیق النساء کو طلاق دیتا ہوں اب لینے نہیں آؤں گا، عبد الآزاد میں خلیق النساء کو طلاق دیتا ہوں اب لینے نہیں آؤں گا“۔ اس صورت میں عبدال آزاد قرآن اُٹھانے کو اور حلف دینے کو تیار ہے کہ مذکورہ تحریر میری نہیں ہے نہ میں نے دی ہے اور خلیق النساء بھی قرآن اُٹھا نے حلف دینے کو تیار ہے کہ یہ تحریر عبد الآزاد کی ہی ہے اور اس نے مجھے ہاتھ میں دی ہے۔ اشارات سے دونوں طرف شک ہوتا ہے۔ اب آپ فیصلہ فرمائیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟ اور کس کی بات صحیح مانی جائے ؟ اور اس کی کیا صورت ہے؟ لڑکی سسرال جانے کو تیار نہیں ہے تقریباً ۴ ماہ ہو گئے عبدالآ زاد بھی اب تک لینے نہیں آئے اور نہ کوئی خبر دی ہے۔ کیا کیا جائے؟ حکم شریعت
الجواب:شوہر جبکہ طلاقنامہ سے منکر ہے اور گواہان شرعی اس کے شاہد نہیں تو طلاق ثابت نہ ہوئیں البتہ خلیق النساء جبکہ تین طلاقوں کی مدعیہ ہے تو اسے حلال نہیں کہ شوہر کو خود پر قابو دے بلکہ اسے لا زم ہے کہ اس سے دور بھاگے۔ در مختار میں بزازیہ سے ہے: قالت طلقني ثلاثا ثم ارادت تزويج نفسها منه ليس لها ،،ذالک اصرت عليه ام اکذبت نفسها (1) اور اب شوہر کو چاہئے کہ اس کی گلو خلاصی کر دے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم