عورت کے چار طلاق کے دعوے اور شوہر کے انکار کی صورت میں شرعی حکم
مجھے چار مرتبہ طلاق دی ہے اس کے بعد لڑکی اپنے ماں باپ کے مکان پر چلی گئی ان سے بھی یہی کہا میرے شوہر نے مجھے مارا اور چار مرتبہ طلاق دیدی ہے۔ شرعی حکم کیا ہے؟
الجواب: باپ کا نام : چھوٹے کامدانی والے محله احمد علی تالاب ضلع بریلی شریف (یوپی) طلاق کا ثبوت اقرار شوہر یا گواہان شرعی کی شہادت شرعیہ سے ہوتا ہے۔ گواہان اگر باشرع نہیں یا شوہر طلاق دیتے وقت ان کے سامنے نہ تھا بلکہ گواہوں نے آڑ سے طلاق کے کلمات سنے تو ، بہ صورت انکار شوہر طلاقیں ثابت نہ ہوئیں مگر جبکہ لڑکی تین طلاقوں کی مدعیہ ہے تو اسے حلال نہیں کہ شوہر کو خود پر قابو دے بلکہ اس سے دور رہے جیسے شیر سے، جیسے سانپ سے۔ در مختار میں ہے : " فى البزازية قالت طلقني ثلاثا ثم ارادت تزويج نفسها منه ليس لها ذالک اصرت علی ذالک ام اكذبت نفسها ( ) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله