طلاق نامہ سے شوہر کا انکار اور عورت کا تین طلاق کا دعوی
سوال
صادر فرما ئیں کیونکہ معاملہ بہت طول پکڑ چکا ہے اور تحریر کردہ صورت طلاقنامہ ہندی میں ہے اور زوج عبد الآزاد اور زوجہ خلیق النساء دونوں ہندی آٹھویں تک پڑھے ہوئے ہیں۔ المستفتی: محمد اسلام
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: کبھی محلہ دھد پوری ضلع شیڈول (ایم پی ) شوہر جبکہ طلاقنامہ سے منکر ہے اور گواہان شرعی اس کے شاہد نہیں تو طلاق ثابت نہ ہوئیں البتہ خلیق النساء جبکہ تین طلاقوں کی مدعیہ ہے تو اسے حلال نہیں کہ شوہر کو خود پر قابو دے بلکہ اسے لا زم ہے کہ اس سے دور بھاگے۔ در مختار میں بزازیہ سے ہے: قالت طلقني ثلاثا ثم ارادت تزويج نفسها منه ليس لها ذالک اصرت عليه ام اکذبت نفسها (1) اور اب شوہر کو چاہئے کہ اس کی گلو خلاصی کر دے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۸ رمضان المبارک ۱۴۰۲ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۷ · صفحہ ۱۰۰
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
عورت کہتی ہے کہ طلاق نامہ شوہر نے لکھ کر میرے ہاتھ میں دیا جبکہ شوہر انکار کرتا ہے تو طلاق ہوگی کہ نہیں؟
باب: کتاب الطلاق
عورت کے چار طلاق کے دعوے اور شوہر کے انکار کی صورت میں شرعی حکم
باب: کتاب الطلاق
تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح کی ممانعت کا حکم
باب: کتاب الطلاق
تین طلاق کے بعد بیوی بنا کر رکھنا حرام !
باب: کتاب الطلاق
بلا وجہ شرعی بیوی کو شوہر سے جدا کرنے اور کچہری سے طلاق لینے کے متعلق شرعی حکم
باب: کتاب الطلاق