بلا وجہ شرعی بیوی کو شوہر سے جدا کرنے اور کچہری سے طلاق لینے کے متعلق شرعی حکم
قابل صد احترام عالی جناب علامہ اختر رضا خاں صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے مزاج گرامی حسب معمول ہوگا۔ اصل مدعا اینکہ میں چند روز سے حسب ذیل مسئلہ سے از حد پریشان ہوں۔ لہذا آپ قرآن وحدیث وفقہ کی روشنی میں حل ارسال فرما ئیں نوازش ہوگی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین حسب ذیل مسئلہ پر کہ: میرے خسر میرے انکار کے باوجود میری زوجہ محترمہ کو اپنے مکان جبرالے گئے۔ چند روز بعد میں انہیں لینے گیا مگر واپس لوٹا دیا اسی طرح کل تین مرتبہ گیا اس کے باوجود وہی ان کا رویہ رہا۔ بعد ازاں ان کی خصوصی میٹنگ بلائی گئی اور میں بھی شریک رہا اور یہ طے پایا کہ زوجہ کا خرچہ (ماہانہ ) دیا جائے آپ یہاں رہیں۔ لہذا ایک ماہ کا خرچ بذات خود دیا اور ایک روز وہاں رہا۔ واپس لوٹ آیا بعد ازاں پھر بغرض لینے گیا مگر نہیں بھیجا اور انہوں نے طلاق مانگی لیکن میں نے انکار کیا۔ لہذا ان کا کہنا ہے کہ ہم کچہری سے طلاق لیں گے۔ کیا یہ شرعی اعتبار سے جائز ہے؟ جلد از جلد جواب ارسال فرمائیں ! جواب کا طالب : محمد اسحاق / معرفت ایس۔ایم ۔ آئی (انگوٹھی والا ) کیراف بی۔ایس ۔ کالونی ، پوسٹ کلیان ضلع تھانہ (مہاراشٹر ) پن کوڈ : 421301
بلا وجہ شرعی بیوی کو اس کے شوہر سے بگاڑ نا حرام بد کام بدانجام ہے! الجواب: بلا وجہ شرعی بیوی کو اس کے شوہر سے بگاڑ نا حرام بد کام بدانجام ہے۔ حدیث میں اس پر لعنت آئی ہے اور کچہری کی طلاق شرعاً کوئی چیز نہیں ہے اس سے عورت نکاح سے باہر نہ ہوگی۔ نہ دوسرا نکاح عورت کو حلال کہ طلاق کا اختیار شوہر کو ہے۔ حدیث میں ہے: الطلاق لمن اخذ بالساق ) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۷ رذی قعدہ ۱۴۰۲ھ