حالت حمل میں طلاق و جماع، مہر، قربانی اور رشوت خور حافظ سے متعلق سوالات
مکرمی محترم المقام علمائے دین وشیوخ المتین کیا فرماتے ہیں مسائل ذیل میں کہ : (1) حمل کے دوران طلاق ہو سکتی ہے یا نہیں ؟ اگر کسی نے حمل کے دوران طلاق دے دی ہے تو ؟ (۲) حمل قرار پانے کے بعد کتنے دن تک عورت سے جماع کیا جاسکتا ہے؟ لوگوں کا کہنا ہے کہ حمل قرار پانے کے ۳ ماہ تک جماع کیا جاسکتا ہے، ۳ ماہ کے بعد جماع کرنا حرام ہے۔ کیا یہ درست ہے؟ اسلام ان کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ (۳) بیوی کی پہلی ملاقات میں قربت سے پہلے مہر دینا کیا ضروری ہے؟ آج کل لوگ جو مہر بیوی سے معاف کراتے ہیں کیا یہ درست ہے؟ (۴) صاحب نصاب قربانی کرنے والا پیسے کی کمی کی وجہ سے قربانی نہ کرے ہلڑ کی کی شادی کر دے تو کیا یہ درست ہوگا ؟ وضاحت فرمائیں! (۵) ایک حافظ موجودہ قصبہ کا چیئر مین ہے اور وہ رشوت بھی خوب لیتا ہے تو وہ حافظ کہلانے کا حقدار ہے یا نہیں ؟ اور وہ قاتل بھی ہے۔ (1) قربانی کی کھال کا پیسہ یتیم مسکینوں کو دیا جائے لیکن آج کل لوگ مدرسوں میں دیتے ہیں۔ یہ درست ہے؟ مہربانی کر کے جواب سے جلد سے جلد مطلع فرمائے نزد پولیس چوکی ، قصبہ بلرام تحصیل کا سکنج مضلع ہے
الجواب: (1) حمل میں طلاق دینا شرع ممنوع ہے۔ مگر طلاق واقع ہو جائے گی اور عدت وضع حمل ہے۔ قال تعالى: {وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمَلَهُنَّ - الآية } (1) واللہ تعالی اعلم (۲) حالت حمل میں جب تک عورت جماع برداشت کر سکے اور اس پر یا بچہ پر ضرر کا اندیشہ نہ ہواس وقت تک جماع جائز ہے۔ تین مہینہ کی کوئی قید نہیں ۔ جو لوگ اس مدت کے بعد جماع کو مطلقاً حرام قرار دیتے ہیں ، خاطی ہیں ۔ ان پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ہاں ۔ جبکہ متجبل ہو اور بیوی طلب کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نہیں۔ اور وہ گنہگار ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) وہ حافظ ہے تو اُسے حافظ کہا جائیگا۔ البتہ بہ شرط ثبوت وہ سخت فاسق ہے اور اس کی تعظیم منع ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) فقیروں کو دیں خواہ مدرسہ میں لگائیں، دونوں باتوں کا اختیار ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ کھال کو باقی رکھتے ہوئے یا باقی رکھنے والی چیزوں سے بدل کر اس سے فائدہ اُٹھا ئیں ۔ کمافی الدر المختار ۔ بیان سے معلوم ہوا کہ کھال کا صدقہ کرنا واجب نہیں ہے بلکہ اس کا وہی حکم ہے جو صدقہ نافلہ کا ہے اور صدقہ نافلہ میں غریب کو دینا ضروری نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفر له