نشے کی حالت میں دی گئی تین طلاقوں کا حکم اور حلالہ کی وضاحت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے متعلق کہ: زید نے اپنے سسرالیوں کو نشے کی حالت میں گالیاں دیں نیز بُرا بھلا کہا اور اسی کیفیت میں اپنی بیوی ہندہ کو بیک وقت تین طلاقیں دے دیں دریافت طلب امر یہ ہے کہ طلاق واقع ہو ئیں یا نہیں؟ بروئے شریعت حل فرمایا جائے۔ عین کرم ہوگا۔ بینوا من الكتاب و تو جروا عند رب الارباب المستفتی: محمد شفیع احمد بقلم خود محلہ سرائے ذکر یا بیگ ،صندل خاں بازار، بریلی
الجواب: صورت مسئولہ میں زید کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور عورت ایسی حرام ہوگئی کہ اب بے حلالہ حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر کسی سے نکاح صحیح کے بعد جماع کرائے ، پھر وہ طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے پھر عورت بعد عدت پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالى : (حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غیره) () وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم: ،، لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) ہمارے ائمہ حنفیہ کے نزدیک طلاق سکران ضرور واقع ہے جبکہ نشہ کسی حرام چیز کے کھانے پینے سے ہو۔ تنویر ودر مختار میں ہے: ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) - (ولو عبدا)۔(اوسكران) ولوبنـبـيــذاو (1) سورة البقرة : ٢٣٠ (۲) جامع الترمذی، ابواب النکاح، ج ۱، ص ۱۳۳ ، مجلس برکات حشيش او افیون او بنج زجرا، به یفتی تصحیح القدوری ) واللہ ورسولہ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی