تین طلاقوں کے واقع ہونے اور حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح کے ناجائز ہونے کا بیان
ایک لڑکا باہر کا رہنے والا تھا، اس کے ساتھ کر دی ،لڑکا ضلع کانپور کا رہنے والا تھا لڑکے کا نام جمیل احمد تھا۔ کچھ دنوں کے بعد میاں بیوی میں تکرار ہو گئی اس وجہ سے لڑکے نے ہماری لڑکی کو مارا پیٹا اور کہا : میں نے تجھے طلاق دی، طلاق دی ، طلاق دی اور یہی لفظ باہر کہتا ہوا نکلا ” میں نے منے کی لڑکی کو طلاق دی ۔ جن لوگوں نے طلاق دیتے ہوئے سنا۔ ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں : (۱) صدیقن ، مرد کا نام یسین احمد (۲) انیسہ بانو ، مرد کا نام گھرن بخش (۳) رئیس دولها ان صاحبان نے اپنے کانوں سے طلاق دیتے ہوئے سنا۔ المستفتی: پدر رئیس بانو
الجواب: فی الواقع شخص مذکور نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر تو اس کی بیوی فوراً اس کے نکاح سے نکل کر اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ اب بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کے بعد جماع کرے پھر وہ طلاق دے یا وہ مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت عدت بیٹھ کر پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالیٰ: (حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ) () وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی سورة البقرة : ٢٣٠ جامع الترمذی، ابواب النكاح، ج ۱، ص ۱۳۳ ، مجلس برکات