تین طلاق کے واقع ہونے اور ڈھائی طلاق کے اقرار کا شرعی حکم
منگایا جس میں یہ تحریر ہے کہ حلالہ حرام ہے اس فتویٰ کو اور ایک آدمی کو ساتھ لے کر زید فیض آباد مسجد سرائے گئے ۔ وہاں کے ایک امام صاحب نے کہا کہ بغیر حلالہ عورت حرام ہے۔ چاہے آپ دیو بند سے یا بریلی سے فتویٰ منگالیں اور یا تو آپ بنارس والے عقیدے کے ہو جا ئیں اور اسی عقیدے پر چلیں ۔اس کے بعد دونوں جامع مسجد ٹاٹ شاہ فیض آباد گئے وہاں بھی مولا نا عبد الودود پیش امام صاحب نے وہی جواب دیا جو مسجد سرائے کے امام نے بتایا تھا۔ یہ سب ہونے کے بعد جب زید کا نکاح نہیں ہوا تب زید نے کانپور جا کر اپنا من مانی بیان دے کر جیسے زید کا کہنا ہے کہ ہم نے ڈھائی مرتبہ طلاق کہا ہے۔ اس بیان پر اور چھوٹے بھائی کی گواہی کو غلط مان کر فتویٰ دے دیا کہ طلاق نہیں ہوئی اور قرآن وحدیث کا حوالہ بھی دیا ہے اور کہا کہ چھوٹے بھائی کی شہادت نہیں مانی جاتی لیکن اس کے پہلے جو زید نے پڑوسی سے اقرار کیا اور پہنچوں کے درمیان دوستی پر چہ لکھ کر پیش کیا اور اس کے قبل زید برابر کہتا رہا کہ کیا ہماری بیوی بکری بکرا ہے؟ میں حلالہ نہیں کروں گا۔ ان سب باتوں پر غور کرتے ہوئے طلاق ہوئی کہ نہیں؟ اور ڈھائی طلاق کا بھی مطلب سمجھانے کی زحمت گوارہ کریں۔ شرعاً جیسا حکم ہو ، ارشاد فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی ۔ فقط السلام علیکم
الجواب: المستنتی محمد اسلام انصاری، عبدالرزاق انصاری ساکن ، اجودھیا ضلع فیض آباد، یو۔ پی ۔ ( انڈیا ) فی الواقع زید نے اگر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدیں اور گواہان شرعی کے سامنے تینوں طلاقیں دینے کا اقرار بھی کرلیا تو اس کی بیوی پر وہ تینوں طلاقیں دیانہ وقضاء ہر طرح واقع و ثابت ہوگئیں اور عورت اس پراب ایسی حرام ہے کہ بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔ بغیر حلالہ ان دونوں کو ایک ساتھ رہنا حرام اور حکم شرع کے خلاف پر اصرار اور یہ کہنا کہ میں حلالہ نہیں کروں گا بہت سخت ہے جس سے تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی چاہئے۔ تینوں طلاقیں اسکے دوسرے بیان سے بھی ثابت ہے کہ ڈھائی کا اقراری ہے اور طلاق کے ٹکڑے نہیں ہوتے ۔ لہذا یہ آدھی ان دو کے ساتھ مل کر تین ہوگئیں۔ در مختار میں ہے: "و (جزء الطلقة) ولو من الف جزء (تطليقة) لعدم التجزئ )) مسئلہ - ۲۷۴ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی