لقب امی حضور علیہ السلام کا خاصہ ہے، حضور عالم علوم اولین و آخرین ہیں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ایک شخص کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بے پڑھے لکھے تھے۔ یعنی آپ کو پڑھنا لکھنا نہیں آتا تھا تو کیا یہ بات صحیح ہے۔ اور اس کا ثبوت قرآن پاک اور احادیث کریمہ سے ہے اور ایسا عقیدہ رکھنے والے شخص کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے۔ برائے مہربانی اس سوال کا جواب جلد عطا فر ما کر کرم فرما ئیں ۔ حضور سرکار پیر ومرشد کا مزاج شریف خدا کے فضل وعطا سے اچھا ہوگا۔ اور ان کی بارگاہ میں با ادب حاجی اسماعیل عبدیہ صاحب کی جانب سے اور مولوی محمد عبد القادر کی طرف سے سلام عرض ہے۔ فقط والسلام مع الكرام ۳۰ راگست ۱۹۷۹ء، پنجشنبه
الجواب: بے شک ہمارے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم امی لقب ہیں اور امی اسے کہتے ہیں جو اسی حالت پر باقی ہو جس پر وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا یعنی کسی سے پڑھنا لکھنانہ سیکھا ہو۔ اور یہ وصف عامتہ الناس میں عیب کا ہے بخلاف ہمارے نبی امی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ ان میں یہ وصف کمال ہے اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کسی استاذ و مہذب اخلاق کا مرہون منت نہ کیا۔ اور بنایا ایسا دانا کہ سارے عالم کے دانا ان کے آگے بیچ ہیں بلکہ ان کی دانائی ہمارے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی دین ہے اور تہذیب سے نا آشناؤں میں ایسا مؤدب و آراستہ اٹھایا کہ خلق مجسم بنا دیا قال تعالیٰ: وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ () اور ایک عالم کی بھلائی انہیں کے اخلاق حمیدہ کی پیروی میں ہے قال تعالیٰ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ . (٢) اور جس طرح علوم و اخلاق و عادات میں یہ کمال خاصہ آنجناب ہے اسی طرح یہ لقب امی ان کا خاصہ ہے اور اس کا معظم و محترم ہونا ضروریات دین سے ہے اور اسے حل تعظیم آنجناب میں بولنالا زم ہے اور اسے منحل اہانت میں بولنا قلب و عکس مراد قرآن ہے اور یہ کفر ہے۔ قائل مذکور نے اگر یہ جملہ محل اہانت میں بولا تو ضرور اس پر حکم کفر ہے اور تو بہ وتجدید ایمان فرض اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی ۔ اور اس کا یہ کہنا کہ آپ کو پڑھنا لکھنا نہیں آتا تھا ، خلاف واقع ہے جبکہ علم کی نفی مراد ہو جیسا کہ ظاہر پہلو اس کلمہ کا ہے حضور علیہ السلام نے کسی انسان سے پڑھنا لکھنا نہ سیکھا مگر اتنے سے علم قراءت و کتابت کی نفی نہیں ہوتی ۔ جس خدا نے انہیں باوصف امی ہونے کے عالم علوم اولین و آخرین بنایا اسی نے انہیں علم کتابت دیا۔ لا جرم حضور علیہ السلام نے کاتب وحی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بسم اللہ کی کتابت کا طریقہ القا فر مایا۔ حدیث میں ہے: "عن معاوية قال قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم يا معاوية: الق الدواة وحرف القلم وانصب الباء وفرق السين ولا تغور الميم وحسن الله ومد الرحمن نیز اس میں اہانت کا پہلو ہے لہذا احتیاطا تو بہ وتجدید نکاح کا حکم ہے۔ درمختار میں ہے: ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح واولاده أولاد زنا ومافيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۸ رشوال المکرم ۱۳۹۹ھ صبح الجواب واللہ تعالی اعلم صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم تحسین رضا غفرلہ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ