ہندوستان کے دارالاسلام ہونے کا بیان اور سرکاری ٹیکس کا مسئلہ
سوال
(۳) دور حاضرہ میں ہندوستان کو دارالاسلام مانا جائے یا دارالحرب؟ اگر دار الاسلام ما نیں تو ٹیکس اور انکم ٹیکس جو حکومت وصول کرتی ہے شرع شریف کا اس میں کیا حکم ہے؟ برائے کرم ان تمام سوالات کے جوابات نہایت مدلل و محقق قرآن و حدیث و اقوال ائمه و اقوال فقہائے کرام کی روشنی میں عنایت فرمائیں۔ نوازش ہوگی ۔ فقط ، والسلام !
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(۳) ہندوستان بفضلہ تعالیٰ دار لا سلام ہے، کہ یہاں احکام اسلام جاری وشعار اسلام قائم ہیں ۔ اور جب تک احکام اسلام جاری رہیں گے دارلحرب نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے: ’ودارالحرب تصير دار الاسلام باجراء احکام اهل الاسلام فيها “ (الدر المختار شرح تنویر الابصار ج ۶، ص ۲۸۹، ۲۸۸ کتاب الجهاد باب المستامن، مطبع دار الكتب العلمية بيروت)۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۲۶۶
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
گستاخانِ رسول اور بد مذہبوں سے بائیکاٹ اور سزا کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کی جان اور اعمال کی اصل ہے
باب: کتاب العقائد
آسمان سے نئی کتاب اترنے کا دعویٰ کرنے کا حکم اور ختم نبوت کا عقیدہ
باب: کتاب العقائد
لقب امی حضور علیہ السلام کا خاصہ ہے، حضور عالم علوم اولین و آخرین ہیں
باب: کتاب العقائد
قوالی سننے والوں سے میل جول اور ان کی اقتدا میں نماز پڑھنے کا حکم
باب: کتاب العقائد