گستاخانِ رسول اور بد مذہبوں سے بائیکاٹ اور سزا کا شرعی حکم
(۲) دور حاضرہ کے وہابیوں ودیو بندیوں نیز عقائد باطلہ والوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ مذکورہ بالا لوگوں سے کیسا برتاؤ رکھنا چاہئے گستاخ رسول شان اقدس میں بے ہودہ کلمات بکے تو اس سے کس طرح نپٹنے کا حکم ہے؟ کیا اس کو زدوکوب کر سکتے ہیں؟ نیز بکر یہ جذبات رکھتا ہے کہ اگر کوئی گستاخ رسول میرے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں اگر کسی نے گستاخی یا دشنام درازی کی تو میں اس کو جان سے ماردوں گا یا خود سے مرجاؤں گا۔ بکر کو یہ جذبات رکھنا روا ہے یا نہیں؟ نیز بر وقت بکر ایسا کرسکتا ہے یا نہیں؟ جواب سے مطلع فرمائیں۔
(۲) گستاخان خدا و رسول منکران ضروریات دین کافر، مرتد و بے دین ہیں ان سے مقاطعت و ترک معاملت کا حکم ہے اور ان کی سزا یہ ہے کہ سلطان اسلام انہیں قتل کرے مگر اب سلطان اسلام کہاں۔ لہذا یہ سزا موقوف ہے۔ غیر سلطان کو اقامت حدود کا حق نہیں پہنچتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم