مجوزین سجدہ تحیت پر لعن طعن کی ممانعت اور لغزشِ عالم کی صورت میں شرعی رویہ
(۳) جب سجدہ تحیت ما بین الفقہاء مختلف فیہ ہے تو کیا ایسی صورت میں مجوزین سجدہ تحیت کو تارکین صلوۃ وصوم کی طرح لعن و طعن کرنا اور قابل نفرت و ملامت سمجھنا جائز ہے یا نہیں؟
(۳) مجوزین سجدہ تحیت کا حکم گزرا اور لعنت کسی عالم پر جائز نہیں۔ البتہ ان کے فعل کی تصیح میں حرج نہیں بلکہ علماء پر لازم ہے اور عوام کو ان کے اس مسئلہ سے احتراز لازم ہے اور علماء کی صحیح تشنیع سے احتیاط ضرور کہ علماء ہادی و رہنما ہیں اور عوام راہ رو تو انہیں علماء کی ، احکام شرع میں اطاعت لازم اور ان کے قول وفعل ظاہر أخلاف شرع ہوں تو احتراز کا حکم ہے مگر ان پر زبان طعن دراز کرنے کی اجازت نہیں۔ حدیث میں ہے: "اتقوازلة العالم وانتظروافيئته (۲) عالم کی لغزش سے بچو اور اس کے رجوع کا انتظار کرو۔ اس کے تحت علامہ عبدالرؤف مناوی فیض القدیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں: احذروا متابعته عليها و الاقتداء به فيها ولكن مع ذلک احملوه علی احسن المحامل وابتغوا له عذراً ما وجدتم لذلك سبيلا (۳) یعنی عالم کی لغزش میں ان کی پیروی کرنے سے بچو لیکن اس کے باوجود اس کے ساتھ اچھا گمان کرو اور جہاں تک اس کے لئے گنجائش پاؤ اس کے لئے عذر جوئی کرو۔ واللہ تعالیٰ اعلم