پیر یا استاد کی پشت یا پیشانی پر سجدہ اور حدیث ابو خزیمہ کی تحقیق
(۲) نیز حدیث پاک کے پیش نظر کوئی شخص اپنے پیر یا استاد کی پشت یا پیشانی پر سجدہ کرے تو اس کا فیصل جائز ہوگا یانا جائز ؟ نیز یہ حدیث حضرت ابو خزیمہ کے لئے مخصوص ہے یا غیر مخصوص جو بھی حکم دیں، نہایت واضح اور تحقیقی جواب دلائل کے ساتھ تحریر فرمائیں۔
(۲) اس کی اجازت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص حکم اقدس سے صرف ابوخزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہوئی ۔ عن ابن خزيمة ابن ثابت عن عمه ابى خزيمة انه رأى فيما يرى النائم انه سجد على جبهة النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره فاضطجع له و قال صدق رؤیاک فسجد على جبهته ، رواه في شرح السنة (۳) اور یہ خود اسی حدیث سے ظاہر ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ حکم عام نہ تھا جیسا کہ ظاہر ہے بلکہ وہ ایک واقعہ معینہ ہے تو اسکا اس سے تمسک جائز نہیں۔ علماء بالا تفاق فرماتے ہیں: واقعة عين لا عموم لها () لہذا اب کسی کو کسی حیلہ سے اجازت نہیں کہ اپنے پیر کی پیشانی یا پشت پر سجدہ کرے، کہ شر عاسد ذرائع و دفع مفاسد ، جلب مصالح پر مقدم ہے، اشباہ ونظائر میں ہے: درء المفاسد اولى من جلب المصالح ) واللہ تعالیٰ اعلم .