انبیاء کی عصمت اور حضرت یوسف علیہ السلام پر ایک روایت سے متعلق اعتراض کا رد
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس روایت کے بارے میں : (۱) زلیخا نے یوسف علیہ السلام سے کہا نا جائز کام کے لئے تو یوسف علیہ السلام بولے میں ڈرتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ قیامت کے دن زنا کاروں میں مجھے نہ شامل کرے حالانکہ میں پیغمبر زادہ ہوں یہ فعل بد مجھ سے نہ ہو سکے گا خدا نہ کرے جو ایسے فعل میں گرفتار ہو جاؤں اور خدا کو تو منہ دکھانا ہے قیامت میں زلیخا بولی اے یوسف ذرا مجھ پر نظر کرم کر آ تجھے گودی میں لوں اور چھاتی سے لگاؤں ماہرو کا کل زلف کو میرے ساتھ ملا حضرت نے کہا مصور کی طرف دیکھ یہ بال خاک میں ملیں گے پھر بولی کیوں مجھ کوستا تا ہے آرام جان دے۔ آپ نے کہا مجھ کو دو بات کا غم ہے ایک تو خدا کا دوسرا عزیز کا اس نے مجھے آرام سے رکھا ہے۔ زلیخا بولی تو میرے شوہر سے مت ڈر میں اس کو زہر قاتل کھلا کر مار ڈالوں گی سارے گھر کی سلطنت اس کی تم کو دوں گی اور تو کہتا ہے کہ خدا تیرا کریم ہے وہ تو ہمیشہ گنہگاروں پر رحیم ہے اور کچھ گنج وخزینہ میرا ہے سارا تیرے خدا کے نام پر صدقہ کر دوں گی تب تیرا خدا خوش ہو کے گناہ بخشے گا حضرت نے فرمایا اے زلیخا خدا میرارشوت نہیں لیتا جوتو کہتی ہے تمام کام خرافات ہے زلیخا کہتی تھی اور روتی تھی بیتابی کے ساتھ یوسف انکار کرتے تھے بس کہتے کہتے یوسف آخر کو ڈھل گئے کچھ نیم راضی ہوئے اور کچھ اندیشہ کرنے لگے یہاں کچھ اعتراض ہے یوسف پیغمبر تھے کیونکر اس فعل قبیح پر قصد کیا۔ جواب اس کا بعض علما نے دیا کہ یوسف اس وقت پیغمبر نہیں تھے اور شباب میں قصد فعل فتیح کا کرنا مقتضائے شریعت سے بعید نہیں اور دوسرے میں ہے کہ قتل نہیں کیا ہو اس میں اندیشہ کرنا مواخذہ نہیں اور بعضوں نے کہا کہ شاید یوسف اس
فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله انبیا جملہ کبائر وصغائر کے ارتکاب وارادہ سے معصوم ہیں ۔ صحیح یہی ہے کہ بلقیس حضرت سلیمان علیہ السلام کی زوجہ مطہرہ ہیں !