حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی شریعت تمام اگلی شریعتوں کی ناسخ اور قیامت تک جاری رہنے والی ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ: کیا خبر کتنے تارے کھلے چھپ گئے پر نہ ڈوبے نہ ڈوبا ہمارا نبی اس شعر پر جناب سے عرض ہے کہ ہمارے نبی کے آنے سے پہلے نہ جانے کتنے تارے یا نبی دنیا میں آئے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے۔ مذکورہ بالا شعر کوتو ہم لوگوں نے اپنے قلم سے لکھ کر چھپوایا ہے۔ لہذا آپ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ کیا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی دریا یا تالاب پر لے جایا گیا تھا؟ کہ حضور کو پانی میں ڈوبے نہ ڈوبا سے تعبیر کیا۔ ہماری بستی میں کچھ کم علم ہیں جو یہ شعر پڑھا کرتے ہیں میں نے ان سے بار بار کہا کہ اسے نہ پڑھا کریں اس لئے کہ اس شعر میں جو ڈوبنے “ کا لفظ ہے اس سے سر کا راب قرار علیہ السلام کی شان میں تو ہین ہوتی ہے۔ ہاں اگر اسے یوں پڑھیں کیا خبر کتنے تارے کھلے چھپ گئے پر نہ چھپے نہ چھپا ہمارا نبی حضور سے دریافت ہے کہ آپ اس کا حل فرمائیں کیا اس شعر کا پڑھنا درست ہے؟ یا نہیں؟ آپ کی بے حد مہر بانی ہوگی۔ المستفتی: محمد شفیع آزاد، سلطان پارک لاہور، پاکستان
الجواب: سید نا اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شعر بالکل درست و خوب اور بے غبار ہے اس میں سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام کی تعریف و توصیف ہے اور مطلب یہ ہے کہ اور انبیائے کرام کی شریعت، ان کی قوم اور ان کے زمانے کے لئے تھی اور حضور علیہ الصلاۃ و السلام کی شریعت تمام اگلی شریعتوں کی تاریخ اور قیامت تک جاری رہنے والی ہے اور آپ کی رسالت اگلے پچھلے ہر زمانے کے لئے عام ہے اور قیامت تک آپ رسول ہیں۔ اس میں تو ہین کا شائبہ بھی نہیں اور ڈوبنے کا محاورہ صرف دریا میں ڈوبنے کے لئے نہیں بولتے چاند سورج کے غروب کو بھی ڈوبنے سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس میں تو ہین سمجھنا اور فساد بر پا کر نا سخت بے عقلی ہے۔ واللہ الحادی وجو تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله