نعت شریف میں لفظ یا محمد لکھنے کا شرعی حکم
۲۴ رذی الحجہ ۱۴۰۱۱ھ نعت شریف میں یا محمد" لکھنا جائز ہے یا نا جائز ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کیا نعت شریف میں یا محمد لکھنا جائز ہے یا نا جائز ؟ مثال کے طور پر یہ مطلع دیکھئے ؎ میرے لب پہ یا محمد یہی بات دائگی ہے ۔ میری عاشقی میں کیونکر دیدار کی کمی ہے المستفتی: شمیم شجری ، ہر مالہ روڈ اشوک نگر ، رتلام
الجواب: صحیح یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو مجر دنام سے پکار نا نا جائز ہے۔ قال تعالیٰ: لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا - الآية (() یعنی اس رسول ( علیہ الصلاۃ والسلام ) کا پکارنا اس طور پر نہ ٹھہراؤ جیسے آپس میں تم ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ اور سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام کا دیدار بڑی سعادت ہے جو محض سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام کا کرم ہے اتباع شریعت اور سر کا ر سے محبت اور ان کی سنت پر عمل اور اپنے آپ کو اور اپنے عمل کو پیچ جاننا یہ سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام سے قرب کے اسباب ہیں ۔ شعر میں خودستائی ہے جو مذموم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم