انبیاء کرام کی شان کے خلاف روایات اور حضرت یوسف علیہ السلام و بلقیس کے واقعات کا شرعی حکم
لئے اندیشہ کرتے تھے کہ اگر شوہر اس کا نہ ہوتا تو میں اس سے نکاح کر لیتا مفسروں نے تفسیر میں لکھا ہے کہ یوسف نے جب زلیخا کو مضطرب حال دیکھا کہ جان دینے پر مستعد ہوئی تب آپنے ارادہ کیا کہ زلیخا سے رہائی پاؤں اور بعض نے کہا ہے کہ دلیل سے یوں ثابت ہوتا ہے کہ یوسف نے جب دیکھا کہ زلیخا نے ہفتم خانے کے دروازے بند کر دیئے اور اپنی جان دینے پر مستعد ہوئی تب ناچار اس کے سوار ہائی نہ دیکھی تب اس کی طرف مخاطب ہوئے اور رضادی اور ازار بند میں اپنے سات سات گرہ دے رکھی تھی اس کے کھولنے میں تاخیر ہوئی اور اللہ کی طرف نظر کرتے تھے اتنے میں زلیخا نے خوش و محظوظ ہو کر جلدی سے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور متقاضی مباشرت کی ہوئی پس یوسف کے ازار بند کی ایک گرہ کھولنے میں دوسری گرہ لگ جاتی اور دھیان یوسف کا خدا پر تھا ایک آواز غیب سے آئی اے یوسف مت جا اس کے ساتھ ور نہ مٹایا جائے گا نام تیرا دفتروں سے انبیاء کے۔ چنانچہ حدیث قدسی ہے: يا يوسف لو وافقت الخطيئة يمحو الله اسمک من ديوان الانبياء اے یوسف اگر موافقت کی تو نے گناہ کی مٹائیگا اللہ نام تیرا انبیاؤں سے،، تب یوسف یہ سنتے ہی دروازے کی طرف دوڑے۔ ترجمہ قصص الانبیاء علامہ دہر جناب مولانا مولوی غلام نبی ابن عنایت اللہ ۔ عرض کرنے کا خاص مقصد ہے کہ اس قسم کے الفاظ انبیاء کرام کی شان کے لئے استعمال کرنا اور ایسی روایت والی کتاب کا پڑھنا اور سامعین کوسنانا شرعا جائز ہے یاناجائز اور اگر ناجائز ہے تو سنانے والوں کے لئے اور جو سناتے ہیں ان لوگوں پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی۔ (۲) عجائب القصص میں لکھا ہوا ہے کہ بلقیس کی شادی حضرت سلیمان علیہ السلام سے نہ ہوئی دوسرے کے ساتھ ہوئی یہ عبارت صحیح ہے یا غلط ایسی کتاب پڑھنا درست ہے یانہیں؟ فقط ! المستفتی: محمد طاہر، بریلی شریف
الجواب: (1) اس روایت میں بہت باتیں شان انبیاء علیہم السلام کے خلاف ہیں عقیدہ ضرور یہ دینیہ ہے کہ انبیاء جملہ کبائر وصغائر کے ارتکاب اور ارادہ سے معصوم ہیں اور صدقہ کو اس روایت میں رشوت سے تعبیر کیا ہے یہ بھی نا درست ہے اور اس روایت کو بیان کرنا نا جائز و گناہ ہے اور اس میں جو باتیں انبیاء کی شان کے خلاف ہیں ان کا اعتقاد کفر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) صحیح یہی ہے کہ بلقیس حضرت سلیمان علیہ السلام کی زوجہ مطہرہ ہیں عجائب القصص کتاب میں واقف نہیں ہوں معتمد علمائے اہل سنت کی کتب دیکھیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله قاضی عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۱؍ ذیقعده ۱۳۹۸ھ