سجدہ تحیت کو حرام سمجھنے والے کا مجوزین سے میل جول اور اکابرین کے بارے میں حسن ظن کا حکم
(۱) کہ زید سجدہ تحیت کو حرام سمجھتا ہے لیکن اس کے باوجود مجوزین سجدہ تحیہ سے میل ملاپ رکھتا ہے ان سے بائیکاٹ اور قطع سلام و کلام نہیں کرتا آیا شرعا زید کا یہ فعل قبیح ہے یا نہیں۔ اگر فتیح ہے تو حضرت نظام الدین اولیاء و بعض فقہاء ( جن کی عبارتوں سے جواز ثابت ہورہا ہے ) کومحترم وقابل عظمت جانا اور ان کے مزارات پر جانا اور ان کے ماننے والوں کو قابل عزت جاننا اور ان سے سلام و کلام کرنا کیسا ہے؟
الجواب: المستفتیان : بدرالدین مسیح اللہ قمر الدین، بجر یہ محلہ انبہ، بنارس (1) سائل نے جس قدر عبارتیں سوال میں نقل کہیں ان سب کا حاصل یہی ہے کہ انبیاء واولیاء کو سجدہ تحیت ناجائز و حرام ہے اور یہ کہ سہی صیح و مختار ہے اور اس کا خلاف خطا ہے اور مفتی پر لازم ہے کہ وہ اسی قول پر فتوی دے جو صحیح و معتمد ہو اور اسی پر عمل کرے۔ درمختار میں ہے: اما نحن فعلينا اتباع مارجحوه و ماصححوه کمالو افتونا فى حياتهم (۱) جسے ائمہ مذہب نے صحیح دراج بتایا اسی طرح وہ اپنی حیات میں ہمیں فتوی دیتے تو ہم پر ان کی پیروی لازم ہوتی۔ اس سے صاف ظاہر کہ مذہب معتمد کی تسلیم اور اس پر کار بند ہونے کے سوا ہمیں کوئی چارہ کار نہیں ۔ اور اس کے معارضہ کا اپنی رائے یا کسی دلیل سے ہمیں حق نہیں پہنچتا۔ فاضل مصری سیدی احمد طحطاوی اس کے تحت حاشیہ میں فرماتے ہیں: دو ،، و هذا اشارة الى التسليم وعدم المعارضة باستظهار او بدليل آخر (۲) اسی میں ہے: الفتيا بالقول المرجوح جهل و خرق للاجماع (۳) یعنی مذہب مرجوح پر فتویٰ دینا جہل اور اجماع کی مخالفت ہے اس پر طحطاوی میں ہے: قوله (جهل) اى من القاضى والمفتى بما نصوا عليه من ان ذالك لا يعمل به قوله وخرق للاجماع) فهو باطل و حرام (۴) (۱) الدر المختار، ج ۱، ص ۱۸۰۸۱ ، المقدمة مطبع دار الكتب العلمية بيروت (۲) حاشية الطحطاوي على الدر المختارج ١ ، ص ۵۲، المقدمة مطبع دار المعرفة للطباعة والنشر بيروت (۳) الدر المختار، ج ۱، ص۱۷۷ ۶ المقدمه، دار الكتب العلميه بيروت (۴) حاشية الطحطاوي على الدر المختار ج ۱، ص ۵۰ ، المقدمة مطبع دار المعرفة للطباعة والنشر بيروت ان عبارتوں سے صاف ظاہر کہ قول مرجوح پر فتویٰ دینا باطل و ناجائز وحرام اور خود سائل کی منقولہ عبارتوں سے سجدہ تحیت کا جواز مرجوح و ناصواب ہونا ظاہر، تو مذہب صحیح ومعتمد سے صرف نظر کر کے سجدہ تحیت کے جواز کا فتویٰ دینا حرام اور اس کا مرتکب فاسق ۔ اور فاسق سے میل جول بے مصلحت شرعیہ خود فسق وحرام ۔ قال تعالیٰ: وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَنُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ. تفسیرات احمدیہ میں ہے: الظالمين يعم المبتدع والفاسق والكافر والقعود مع كلهم ممتنع “(۲) اور حضرت محبوب الہی اور ان بعض فقہاء پر طعن جائز نہیں بلکہ ان کے ساتھ حسن ظن اور ان کا احترام لازم ہے اور حسن ظن یہ ہے کہ ان حضرات سے اس مسئلہ میں حطا ایسا ہو گیا نہ کہ انہوں نے دانستہ حق کو چھوڑا اور باطل کو اپنا یا لہذا ان کے مزارات پر عقیدت سے جانے اور ان کے احترام میں مضایقہ نہیں اور ان کے وہ معتقدین جو اس مسئلہ میں بعد وضوح حق ان کے ہمخیال نہیں ان سے میل جول میں بھی حرج نہیں ہاں جو دانستہ ناحق پر مصر ہوں ضرور مستحق ترک ہیں۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۲) اس کی اجازت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص حکم اقدس سے صرف ابوخزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہوئی ۔ عن ابن خزيمة ابن ثابت عن عمه ابى خزيمة انه رأى فيما يرى النائم انه سجد على جبهة النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره فاضطجع له و قال صدق رؤیاک فسجد على جبهته ، رواه في شرح السنة (۳) اور یہ خود اسی حدیث سے ظاہر ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ حکم عام نہ تھا جیسا کہ ظاہر ہے بلکہ وہ ایک واقعہ معینہ ہے تو اسکا اس سے تمسک جائز نہیں۔ ،، علماء بالا تفاق فرماتے ہیں: واقعة عين لا عموم لها (۴) (۱) سورة الانعام: ۶۸ (۲) تفسیرات احمدیه، ص ۲۵۵، مطبع رحیمیه (۳) مشكوة المصابيح كتاب الرؤيا الفصل الثاني ص ۳۹۶ مطبع مجلس برکات (۴) عمدة القاری شرح صحیح البخاری ج ۶، ص ٣٦٠ كتاب الجمعة مطبع دار الكتب العلمية بيروت لہذا اب کسی کو کسی حیلہ سے اجازت نہیں کہ اپنے پیر کی پیشانی یا پشت پر سجدہ کرے، کہ شر عاسد ذرائع و دفع مفاسد ، جلب مصالح پر مقدم ہے، اشباہ ونظائر میں ہے: درء المفاسد اولى من جلب المصالح ) واللہ تعالیٰ اعلم . (۳) مجوزین سجدہ تحیت کا حکم گزرا اور لعنت کسی عالم پر جائز نہیں۔ البتہ ان کے فعل کی تصیح میں حرج نہیں بلکہ علماء پر لازم ہے اور عوام کو ان کے اس مسئلہ سے احتراز لازم ہے اور علماء کی صحیح تشنیع سے احتیاط ضرور کہ علماء ہادی و رہنما ہیں اور عوام راہ رو تو انہیں علماء کی ، احکام شرع میں اطاعت لازم اور ان کے قول وفعل ظاہر أخلاف شرع ہوں تو احتراز کا حکم ہے مگر ان پر زبان طعن دراز کرنے کی اجازت نہیں۔ ،، حدیث میں ہے: "اتقوازلة العالم وانتظروافيئته (۲) عالم کی لغزش سے بچو اور اس کے رجوع کا انتظار کرو۔ اس کے تحت علامہ عبدالرؤف مناوی فیض القدیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں: احذروا متابعته عليها و الاقتداء به فيها ولكن مع ذلک احملوه علی احسن المحامل وابتغوا له عذراً ما وجدتم لذلك سبيلا (۳) یعنی عالم کی لغزش میں ان کی پیروی کرنے سے بچو لیکن اس کے باوجود اس کے ساتھ اچھا گمان کرو اور جہاں تک اس کے لئے گنجائش پاؤ اس کے لئے عذر جوئی کرو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) زید کو ان سے میل جول حلال نہیں اور ان کی اقتدا سے احتراز ضروری ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱) الاشباه والنظائر مع الحموى، ج ۱، ص ۲۶۴ ، القاعدة الخامسه مکتبه زکریا بکڈپوسهارنپور (۲) فیض القدير شرح الجامع الصغير باب حرف الهمزه ج ۱ ص ۱۸۲، مطبع دار الكتب العلمية بيروت / کنز العمال ، کتاب العلم الباب الاول في الترغيب فيه ، حدیث نمبر ۲۸۶۷۸، ص ۵۹، مطبع دار الكتب العلمية بيروت (۳) فیض القدير شرح جامع صغیر، ج ۱، ص ۱۸۲، مطبع دار الكتب العلمية بيروت فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفر له ۱۷ شوال ۱۴۰۵ھ الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم بہاء المصطفیٰ قادری، دارالعلوم منظر اسلام، بریلی شریف