قبل اذان صلاۃ وسلام، بعد نماز درود وسلام اور فاتحہ خوانی کی شرعی حیثیت کا بیان
(۲) قبل اذان آج بعض مقامات پر نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وصلاۃ وسلام پڑھا جاتا ہے بعد درود اذان پڑھی جاتی ہے گویا پنج وقتہ یہی ہوتا ہے معترضین اس کو اذان میں اضافہ اور بدعت قرار دیتے ہیں اور اس کے لیے بھی وہی اعتراض کہ زمانہ صحابہ وائمہ مجتہدین میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی تو پھر یہ زیادتی کیوں؟ اور کچھ مقامات پر فرض نماز سے امام کے سلام پھیر تے ہی سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کا تین مرتبہ نذرانہ پیش کیا جاتا ہے بعدہ امام دعا کرتا ہے۔ بعد نماز جنازہ فاتحہ کا اور بعد نماز پنج وقتہ کے دعائے ثانی یا فاتحہ کا، زمانیہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثبوت چاہیئے گویا اس طرح درج بالا باتوں کا حوالہ قرآن و حدیث و دور صحابہ و ائمہ مجتہدین سے تفصیل کے ساتھ جواب مرحمت فرما کر راہ راست پر گامزن فرماکر ممنون فرمائیں۔
الجواب: لمستفتی: محمد ابراهیم کیراف محمد آدم جی جامانا روڈ چھتر پر بودهاس اندھیری مینی : (۱، ۲) اللہ عز وجل نے صلاۃ وسلام کا حکم مطلق دیا ہے قال تعالیٰ: إِنَّ اللهَ وَمَلَيكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِي يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تسليما یعنی بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس نبی پر اے ایمان والو تم بھی ان پر درود وسلام بھیجو۔ (۱) آیت کریمہ سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صلاۃ وسلام کے لیے کوئی وقت مخصوص نہ فرمایا تو جس وقت میں صلاۃ وسلام پڑھا جائے حکم خداوندی کے عین مطابق ہوگا۔ اور اس سے ممانعت اللہ عز وجل اور رسول اللہ علیہ السلام سے مخالفت ہے قال تعالیٰ: وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى - الآية (٢) اور کسی شئی کی حرمت کا یہ معیار ٹھہرانا کہ دور صحابہ وغیر ہم میں نہ ہوا، غلط و باطل ہے کہ شرعاً حرام وہ ہے جسے اللہ ورسول جل و علا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ممنوع فرمایا ہو اور جسے اللہ تعالیٰ و رسول علیہ الصلاۃ والسلام نے ممنوع نہ فرمایا اسے حرام بتا نا خود حرام ہے پھر اس معیار مزعوم سے یہ لازم آتا ہے کہ صحابہ وغیر ہم کے زمانہ میں جتنی بھی بدعات و منکرات ہوئی ہوں وہ سب جائز ٹھہریں اور اس امر کا علم کیونکر ہوا کہ صحابہ وغیرہ کے دور میں صلاۃ وسلام قبل اذان و بعد نماز نہیں ہوتا تھا اور جب صراحۃ اس کی نفی معلوم نہیں تو محض رجماً بالغیب یہ کہہ دینا کہ صحابہ وغیر ہم کے زمانہ میں یہ کام نہ تھا محض اٹکل سے حکم لگانا ہے۔ بالجملہ یہ معیار مزعوم نا قابل عمل ہے اور صلاۃ وسلام مطلقا جائز ومستحسن ہے اور اس سے ممانعت وہابیہ کا کام ہے اور دعا وفاتحہ بعد نماز جنازہ بھی جائز وخوب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی