صرف انبیاء شہید کیے گئے ، رسل نہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: یہاں پر ایک جماعت کہتی ہے کہ انبیا اور رسل دونوں شہید ہوئے ہیں اور دوسری جماعت کہتی ہے کہ صرف انبیا شہید ہوئے ہیں حق پر کون ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرما ئیں ۔ عین کرم ہوگا ، فقط ! المستفتی: محمد رفیق عالم رضوی، خطیب مسجد کولی محلہ بہلی
الجواب: دوسری جماعت کا قول صحیح ہے قال تعالیٰ: كتبَ اللهُ لَا غُلِبَنَ آنَا وَرُسُلِي (۲) یعنی اللہ تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ ضرور میں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔ ظاہر ہے آیت کریمہ حجت اور شمشیر دونوں سے غلبہ کو شامل ہے اور رسولوں کا مقتول ہونا اس ظاہر کے منافی ہے اور جب تک ظاہر کو مراد لینا متعذر نہ ہو ظاہر کو مراد لیں گے اور بلا دلیل قوی ظاہر سے عدول جائز نہیں اور یہاں بات یہی ہے کہ ظاہر سے عدول کی کوئی دلیل صادق نہیں۔ رہی یہ بات کہ قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہوا: {أَفَكُلَّمَا جَاء كُمْ رَسُولُ بِمَا لا تَهْوَى (1) التفسير الكبير ج ۲۲ ، ۲۱ ، ص ۱۲۷ ، تحت سورة الكهف ، مطبع دار الكتب العلمية بيروت (۲) سورة المجادلة: ٢١ أَنفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقاً كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقاً تَقْتُلُونَ} یعنی ، تو کیا جب تمہارے پاس کوئی رسول وہ لے کر آئے جو تمہارے نفس کی خواہش نہیں۔ تکبر کرتے ہو تو ان (انبیاء ) میں ایک گروہ کو تم جھٹلاتے ہو اور ایک گروہ کو شہید کرتے ہو۔ (۱) تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اس آیت کریمہ میں رسول سے مراد اس کا وہ معنی ہے جو انبیاء کو بھی شامل ہے اسی لئے سیدی اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہاں ترجمہ میں (انبیاء) کا اضافہ فرمایا اور اس پر قرینہ یہ ہے کہ اس آیت کریمہ مؤخر الذکر کا مخاطب یہودی ہیں اور یہودی حضرت موسی کے زمانے سے ہوئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد سید نا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام تک جو انبیاء آئے وہ سید نا عیسی علی نبینا وعلیہ وعلیہم السلام کے سوا سب کے سب صاحب شریعت جدیدہ نہ تھے بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر عامل تھے چنانچہ قرآن کریم کا ارشاد ہے: وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ . یعنی ہم نے موسیٰ علیہ السلام کے بعد رسولوں کو اس کا تابع کیا۔ صاوی“ میں ہے: بأن مراد التبع في العمل بالتوراة فكل الانبياء الذين بين موسیٰ و عیسى يعملون بالتوراة بوَحِى من الله لا تقليد الموسى (M) خازن میں اس کے تحت ہے: یعنی رسولا بعد رسول وكانت الرسل بعد موسى الى زمن عيسى عليهم السلام متواترة يظهر بعضهم في أثر بعض والشريعة واحدة - الخ“ (٢) خلاصہ دونوں عبارتوں کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے تک انبیائے کرام پے در پے آئے ایک کے بعد دوسرے تشریف لاتے رہے اور حضرت عیسی علیہ الصلاة والسلام سے پہلے تک سب کی شریعت ایک تھی تو وہ حضرات صاحب شریعت جدیدہ نہ ہوئے اور جس کی طرف وحی آئے اور وہ صاحب شرع جدید نہ ہو بلکہ اگلے نبی کی شریعت کا تابع ہو وہ نبی ہے رسول نہیں اسی لئے صاوی میں فكل الأنبياء - الخ“ فرما کر رسل سے انبیاء مراد ہونا ظاہر فرما دیا اور اسی لئے علامہ امام خازن نے دوسری جگہ سورہ آل عمران کی آیت { قُلْ قَدْ جَاءَ كُمْ رُسُلٌ مِن قَبْلِي - الآية } () کے تحت فلم قتلتموهم“ میں ضمیر کا مرجع انبیاء بتا کر صاف صریح فرما دی کہ حقیقیه قتل انبیاء علیہم السلام واقع ہوا: "عنى فلم قتلتم الانبياء الذين أوتوا بنا طلبتم منهم مثل زکریا و یحیی و سائر من قتلوا من الانبياء“(۲) نیز اسی خازن میں ہے: يروى أن اليهود قتلت سبعين نبيا في اول النهار قامت الى سوق بقلها في آخره وقتلوازکریاویحیی وشعيا وغيرهم من الأنبياء (۳) یہاں سے صاف ظاہر کہ حقیقت قتل کا معاملہ انبیاءعلیہم السلام کے ساتھ ہوا اور وہی قتل سے شہید ہوئے رہا اگر قتل سے مباشرت اسباب وجد و جہد و عزم قتل مراد ہو تو آیت عام ہے مگر بالفعل قتل، انبیاء علیہم السلام پر واقع ہوا اور اس امر کا سب سے بڑا شاہد قرآن کریم کا ارشاد ہے: وَيَقْتُلُونَ النَّبيين بغير حقي- الآية (1) - والله تعالى اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ / جمادی الآخره ۱۴۰۷ھ صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی