نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے نام سے پکارنے کی شرعی ممانعت اور تعظیمی القابات کا حکم
ساتھ پکارنا جائز نہیں ؟ کہ پروردگار عالم نے قرآن شریف میں کہیں بھی حضور کو نام لے کر نہیں پکارا۔ اس لئے یا رسول اللہ، یا نبی اللہ کہ کر پکارنا چاہیے (میرے پاس رسالہ موجود نہیں ہے ورنہ حوالہ بھی دیتا)۔ جبکہ امام بخاری ادب میں اور امام ابن نسائی ”عمل الیوم والليلة “ میں راوی کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پاؤں سوج گیا تو ان سے کہا گیا آپ کے نزدیک جو محبوب تر ہوا سے یاد فرمائیں بس انہوں نے حضور کو یاد فرمایا یا محمداہ کا نعرہ لگایا پاؤں اچھا ہو گیا۔ (اصلاح بہشتی زیورص: ۲۲۰ تا ۲۴) برائے کرم صحیح مسئلہ سے واقف کرانے کے مہربانی کریں۔
الجواب: صحیح یہی ہے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے نام نامی سے پکار نا منع ہے قرآن عظیم فرماتا ہے: لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا (1) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا پکارنا ایسا نہ بنادو جیسا کہ ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ صحابہ کرام سے مروی ہوا کہ ہم یا محمد کہتے تھے یہ آیت اتری تو ہم یا رسول اللہ کہنے لگے اسی لئے علماء فرماتے ہیں کہ روایت میں جہاں یا محمد وارد ہے وہاں یا رسول اللہ کہا جائے یہی بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم زیر آیت کریمہ مذکورہ صاوی میں ہے: أى نداءه بمعنى لا تنادوه باسمه فتقولوا يا محمد ولا بكنيته فتقولوا يا أبالقاسم بل نادوه و خاطبوه بالتعظيم والتكريم والتوقير بأن تقولوا يا رسول الله يا امام المرسلين يارسول رب العالمين يا خاتم النبيين وغير ذلك واستفيد من الآية أنه لا يجوز نداء النبى بغير مايفيد التعظيم لا في حياته ولا بعد وفاته فبهذا يعلم أن من استخف بجنابه صلى الله تعالى عليه وسلم فهو كافر ملعون في الدنيا والأخرة (٢) کتب فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله