انبیاء کرام کی عصمت اور آیت لیغفر لک اللہ کے ترجمہ کی شرعی وضاحت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص امامت کرتا ہے اور میلا د بھی پڑھتا ہے نکاح بھی پڑھاتا ہے اور مقدمہ بھی لڑتا ہے اور برابرلٹر رہا ہے وعظ بھی بیان کرتا ہے بروز عید ، عید گاہ میں قبل نماز دوگانہ اپنی تقریر میں اس نے مجمع کے سامنے بیان کیا کہ اللہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا اے محبوب ہم نے تمہارے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ایسے شخص کے لیے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے۔ جواب مرحمت فرمائیں۔ فقط !
سید محمد ارشاد علی رضوی پیش امام گردھر پور فی الواقع اگر شخص مذکور نے یہ جملہ از خود کہا، کسی حدیث یا آیت کے ترجمہ میں جو اللہ ورسول سے حکایت کے طور پر ہو، نہ کہا تو وہ بہت سخت حکم کا مستوجب ہے۔ اسے احتیاطا چاہیے کہ تو بہ وتجدید ایمان اور اگر بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ اور اسلم و احوط ترجمہ آیت کریمہ یغفر لك الله، الآية کا یہ ہے کہ تمہارے سبب سے اللہ بخش دے کمافی الترجمة الرضویۃ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۱۹ رشوال المکرم ۱۳۹۶ھ