لفظ میاں کا اطلاق ذات باری تعالیٰ کے لیے جائز نہیں !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میاں لفظ کیسا ہے؟ اللہ میاں بولنا یا لکھنا از روئے شریعت کیا حکم رکھتا ہے؟ معتبر کتب سے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔ احسان و کرم ہوگا۔ فقط ، والسلام ! المستفتی: ماسٹر محمد شوکت فہمی چپکا پاره، پوسٹ کیمری ویل، رام گانگ پوری (بہار)
الجواب: لفظ میاں چھوٹے کے لئے بھی مستعمل ہوتا ہے اور بعض قوموں کو بھی میاں کہا جاتا ہے۔ لہذا اس کا اطلاق ذات باری تعالی پر جائز نہیں ۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۷ رذی قععد ۱۴۰۲۵ھ صح الجواب۔ لفظ میاں کے معنی شوہر کے آتے ہیں، اس لئے میاں بیوی کہتے ہیں اور ایک معنی دیوث کے ہیں، یہ دونوں معنی باری تعالیٰ کے لئے محال ہے، اس لفظ کا اطلاق باری تعالیٰ کے لئے جائز نہیں۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی