اسمائے الہیہ قہار وجبار کی حقیقت اور صفات باری تعالی کے قدیم ہونے کا بیان
کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ: (1) زید کہتے ہیں اللہ عزوجل کا رحمن و رحیم نام تو ہے مگر قہر و غضب ( قہار وجبار ) اس کا صفات ذات سے نام نہیں اس لئے یہ کہنا روا ہے کہ اللہ جل مجدہ ازلی رحمن و رحیم ہے مگر یہ کہنا مطلقا جائز نہیں کہ اللہ جل مجدہ ازل سے ہی غضب و قہر سے متصف ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وجود و ظہور میں فرق ہے وجود کو ظہور مستلزم نہیں پس ظہور رحمت کیلئے مرحوم کا ثابت ہونا لازم اسی طرح ظہور قہر کے لئے مقہور اور اللہ عز وجل کی کوئی صفت حادث نہیں بلکہ قدیم اور واجب ہیں تو یہ کہنا کیونکرنا جائز ہوگا ؟ (۲) اس شعر کا مطلب کیا ہے اور اس میں شرعا کوئی خرابی ہے یا نہیں؟ ز آنروی که چشم تست احول - منبع نور پیر تست اول بینوا توجروا
(۲) اور اس شعر کا مطلب فقیر کو ظاہر نہ ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله