وحدت الوجود پر مبنی اشعار اور ان پر ہندو مت کے عقائد کے مشابہ ہونے کا اعتراض
عاشقوں میں درد کی صورت نظر آتا ہوں میں نازنینوں میں سراپا ناز بن جاتا ہوں میں میں کہیں رکھتا ہوں اپنے سر پر تاج خسروی اور کہیں محتاج بن کر ہاتھ پھیلاتا ہوں میں میں پہن لیتا ہوں گا ہے پارسائی کالباس اور کہیں رند مئے آشام بن حبا تا ہوں میں آپ ہی فتویٰ لگا دیتا ہوں کفر و شرک کا آپ ہی کہہ کر انا الحق دار پر آتا ہوں میں جب گلوں کے عشق کی وادی میں رکھتا ہوں قدم نالہائے عندلیب زار بن جاتا ہوں میں غنچه و گل ماہ و انجم ذره مهر آب و خاک مختصر یہ ہے کہ ہر ہر شکل میں آتا ہوں میں میری ہی تصویر کے خاکے ہیں قیس و کوہ کن اب محبت میں رؤف زار کہلاتا ہوں میں ان پر عمرو کو سخت اعتراض ہے، اس کا دعویٰ ہے کہ فلسفہ وحدت الوجود کے کسی داعی نے اس قسم کے عقائد کا اظہار نہیں کیا جیسا کہ ان نظموں میں ہے یہاں تک کہ اس فلسفہ کے امام اکبر شیخ محی الدین ابن عربی یہی فرماتے ہیں: ”الرب رب و العبد عبد“ لیکن ایک سطح میں ان اشعار کے طور طریق سے یہی سمجھ لے گا کہ خدا مختلف صورتوں میں جلوہ گر ہوتا ہے، رند، پارسا، محبوب ومحب ،شاہ،گدا، کلیم ورب کلیم، قیس ولیلی ، نبی و علی ، سب خدا ہی کی مختلف صورتیں ہیں ۔ ان اشعار سے تو ہندؤوں کے اوتار والا معاملہ نظر آتا ہے جس طرح ان کے یہاں بھی خدارام کے روپ میں اجودھیا میں جلوہ گر ہوتا ہے تو کبھی برج میں گوپیوں کے درمیان محور قص وسرور نظر آتا ہے بلکہ ان کے اشعار سے تو ہندؤوں کے عقیدے ارواح تناسخ یا آواگون کا یہی خیال آتا ہے۔ ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت جسے ہم جسم ، شکل وصورت ، موت و حیات اور زمان و مکان سے پاک مانتے ہیں، حقیقت میں پاک نہیں ہے وہ ایک جسم سے دوسرے جسم میں اور ایک قالب سے دوسرے قالب میں منتقل ہوتا رہتا ہے اور معاذ اللہ کی بہروپیا کی طرح مختلف روپ بدلتا رہتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ سب اسلام کے مسلمات اور معتقدات کے بالکل منافی ہے۔ لہذا آپ سے التماس ہے کہ اس مسئلہ میں فیصلہ شریعت مطہرہ کی روشنی میں تحریر فرما ئیں۔ کیا زید نے ان اشعار میں جو نظریات قلمبند کئے ہیں وہ واقعی غلط ہے تو پھر زید کے
الجواب: المستفتی: شیخ محی الدین فاروقی ( علیگ ) وکیلان امروبه،مرادآباد(یوپی)/ یکم ستمبر ۱۹۷۹ء الحمد لله وكفى و سلام علی عبادہ الذین اصطفى لا سيما سيدنا المصطفى وآله نجوم الاهتداء وصحبه مصابیح الدجی و علماء امته سراج الآخرة والدنيا عقیدہ جماہیر اہلسنت یہ ہے کہ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ شانہ واحد ہے، نہ عدد سے خالق ہے نہ علت سے فعال ہے، نہ جوارح سے قریب ہے نہ مسافت سے ۔ حیات و کلام وسمع و بصر وارادہ و قدرت و علم وغیر ہا، تمام صفات کمال سے از لاً وابداً موصوف اور تمام شیون وشین وعیب سے اولاً وآخر ابری ، ذات پاک اس کی ند وضد، شبیه مثل، کیف و کم ، شکل و جسم و جهت و مکان وامد زمان سے منزہ اور جس طرح ذات کریم اس کی مناسبت ذوات سے مبرا، اسی طرح صفات کمالیہ اس کی مشابہت صفات سے معرا، تمام عزتیں اس کے حضور پست اور سب ہستیاں اس کے آگے نیست، كُلُّ شَيْءٍ هَالِك إِلَّا وَجْهَهُ (1) وجود واحد ۔ موجود واحد۔ باقی سب اعتبارات ہیں، ذرات اکوان کو اس کی ذات سے ایک نسبت مجہولۃ الکیف ہے جس کے لحاظ سے من و تو کو موجود و کائن کہا جاتا ہے اور اس کے آفتاب وجود کا ایک پر تو ہے کہ ہر ذرہ نگاہ ظاہر میں جلوہ آرائیاں کر رہا ہے اگر اس نسبت و پر تو سے قطع نظر کی جائے تو عالم ایک خواب پریشان کا نام رہ جائے، موجود واحد ہے نہ وہ واحد جو چند کی طرف تحلیل پائے نہ وہ واحد جو بہ تہمت حلول و عینیت اوج و حدت سے حضیض اثنینیت میں اتر آئے۔ ھو ولا موجود الا ھو ۔ آیت كريمة سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ (٢) جس طرح شرک فی الالوہیت کو رد کرتی ہے اسی طرح اشتراک فی الوجود کی نفی کرتی ہے۔ ان کلمات طیبات میں چند جواہر زواہر وحدۃ الوجود کے بھی آگئے جو خلاصہ تحقیق و تدقیق ہیں، (1) سورة القصص : ۸۸ (۲) سورة يونس : ۱۸/اعتقاد الاحباب فى الجميل والمصطفى والآل والاصحاب، ماخوذ از فتاوی رضویه مترجم جلد ۲۹ رص ۳۴۱ برکات رضا پور بندر گجرات حضرات صوفیہ قدس اللہ تعالیٰ اسرار ہم کے کلمات کو جو سمجھنے کا اہل نہیں اسے اس قدر پر قناعت لازم اور تفصیل کی ہوس حرام بد کام ضلالت انجام ہے۔ اسی لئے علمائے کرام نے نااہل کو کتب صوفیہ کا مطالعہ حرام بنایا بلکہ خود صوفیہ کرام نے ممانعت فرمائی۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سره القوى رعاية الانصاف والاعتدال میں فرماتے ہیں: و مختار الشیخ جلال الدین سیوطی که از علمائے متأخرین حدیث است در شان شیخ آنست که اعتقاد ولایة وتحريم النظر في كتبه (۱)۔ اسی میں ہے: و تحريم النظر در کتب ایشان است که گوید و نحن قوم يحرم النظر في كتبنا الالمن-الخ“(۲) اسی میں ہے: و شیخ ذکرہ الله بالخیر می فرمود که در یں کتب و مانند این کتاب زہد ہا ہست شکر اندوداء واصحاب ی کتاب زود با اینها محفوظ باشند و در مهمات آن خوض نکرد (۳) یہی شیخ محقق اصول الطریقہ لکشف الحقیقۃ میں فرماتے ہیں: فائده دیگر است متعلق بمطالعہ کتب این قوم از توسعه در نظر مصنفات ایشاں بے تمیز و تفصیل ،، والله يقول الحق ويهدى السبيل “ (م) (1) رعاية الانصاف والاعتدال في اعتقاد الصوفية من ارباب الحال على هامش اخبار الاخیار:از شیخ عبد الحق محدث دهلوی ص ۸۶، مطبع مجتبائی دهلی (۲) رعاية الانصاف والاعتدال فى اعتقاد الصوفية من ارباب الحال برهامش اخبار الاخيار:از شیخ عبد الحق محدث دهلوی ص ۸۶، مطبع مجتبائی دهلی (۳) رعاية الانصاف والاعتدال في اعتقاد الصوفية من ارباب الحال برهامش اخبار الاخيار:از شیخ عبد الحق محدث دهلوی ص ۸۶، مطبع مجتبائی دهلی (۴) اصول الطريقة لكشف الحقيقة برهامش اخبار الاخیار از شیخ عبدالحق محدث دهلوی ص ۲۲، ۲۱ مطبع مجتبائی دهلی اسی میں سیدی احمد زروق سے ناقل : حذر الناصحون من تلبيس ابلیس ابن الجوز و فتوحات الحاتمي بل كل كتبه اوجلها و كابن سبعين ابن الفارض ومن يحذو حذوهم ومن مواضع من الاحياء للغزالي جلها في المهلكات منه والنفخ والتسوية له والمظنون من غير اهله و معراج السالكين له والمنقذو مواضع من قوت القلوب لابي طالب المكى و كتاب السهروردى ونحوهم فلزم الحذر من مواطن الغلط والا هلك الناظر فيه باعتراض على اهله او اخذ الشي على غير وجه فافهم-ملتقطا (1) ،، یہی گرو وہ صوفیہ اپنی کتابوں کے مطالعہ کے لئے اہلیت سے پہلے شرط کرتا ہے کہ آدمی کا عقیدہ مذہب اہل سنت پر مستحکم ہو یوں کہ اصلاً کسی عقیدہ اہلسنت پر تردد نہ ہورنہ ان کی کتابوں کا مطالعہ سخت آفت ایمان ہے، اسی اصول الطریقہ میں سیدی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ سے ہے: می فرمودند اول باید کے عقلا قلب بمذہب اہلسنت و جماعت محکم شده باشد و تردد و تذبذب در انجان نمانده بعد ازاں اگر از کتب قوم محفوظ شوند، مستفید گردند، بسلامت اقرب است والا آنکه هنوز اعتقاد شریعت درست نا کرده و عقد اسلام محکم ناشده هم از اول در مہمات و موهمات و مشکلات این قوم 66 خوض کنند محل آفت است ۔۔۔۔ اٹھ (۲) اس ارشاد ہدایت بنیاد کا صریح مفاد یہ ہے کہ مذہب اہلسنت ہی مدار کار واصل ارشاد ہے اور اسے چھوڑ کر صوفیہ کے ان کلمات کی طرف عدول جو بہ نظر عقیدہ اہلسنت کے خلاف ہوں، عین ضلال و اصل فساد ہے۔ ارشاد مذکور حضرت شیخ ابن عربی قدس سرہ سے خوب مترشح کہ ارباب احوال کا جو قول ظاہر شرع (1) اصول الطريقة لكشف الحقيقة برهامش اخبار الاخیار از شیخ عبدالحق محدث دهلوی ص ۲۲، مطبع مجتبائی دهلی (۲) اصول الطريقة لكشف الحقيقة برهامش اخبار الاخیار از شیخ عبدالحق محدث دهلوی ص۲۳، مطبع مجتبائی دهلی کے خلاف ہو اگر چہ اس میں توقف و تسلیم مراد قائل و عدم انکار کا حکم ہے مگر اس کا ظاہر کہ خلاف شرع ہے، لائق اتباع نہیں ، تصریح لیجئے ۔ حضرت شیخ ممدوح محقق دہلوی قدس سرہ القوی اسی رسالہ رعایۃ الانصاف میں فرماتے ہیں: از واضح واضحات واجلی بدیهیات است که طریق قدیم و منسج مستقیم اعتقادا وعملا طريقة سلف صالح است که موافق کتاب اللہ وسنت رسول الله است و هر چه نه موافق کتاب وسنت باشد باطل واز حلیه قبول عاطل است و از بعض مشائخ از ارباب احوال نیز ہر کہ بہت طفح ومسکر و غلبہ حال نہ بریں منوال ،، مقام آورده محل اقتداء و مستحق اتباع نیست فالحق احق ان يتبع وماذا بعد الحق الالضلال - ا (1) اسی میں قواعد الطریقہ سیدی احمد زروق سے ہے: مبنى العلم على البحث والتحقيق ومبنى الحال على التسليم والتصديق فاذا تكلم العارف من حيث العلم نظر في قوله باصله من الكتاب والسنة وآثار السلف لان العلم معتبر باصله و اذا تكلم من حيث الحال سلم له ذوقه اذ لا يوصل اليه الا بمثله فهو معتبر بوجدانه في العلم به مستند لامانة صاحبه ثم لا يقتدى به لعدم عموم حکمہ الا فی حق مثله “(۲) نیز اسی میں انہی ممدوح مذکور سے وہ منقول جو مذکور بالا سے سخت تر ہے، چنانچہ فرماتے ہیں: وو يعتبر الفرع باصله و قاعدته فان و افق قبل و الا رد على مدعيه او اول علیه او سلم له كملت مرتبة علما و ديانة ثم هو غير قادح في الاصل لان فساد الفاسداليه يعودولايقدح في صلاح الصالح شيئا فغلاة المتصوفة كاهل الاهواء من الاصوليين وكالمطعون عليهم من المتفقهين يرد قولهم و يجتنب فعلهم ولا يترك المذهب الحق الثابت بنسبتهم رعاية الانصاف والاعتدال فى اعتقاد الصوفية من ارباب الحال برهامش اخبار الاخیار: از شیخ عبد الحق محدث دهلوی ص ۸۳، مطبع مجتبائی دهلی (۱) (۲) رعاية الانصاف والاعتدال فى اعتقاد الصوفية من ارباب الحال برهامش اخبار الاخيار:از شیخ عبدالحق محدث دهلوی ص ۸۵، مطبع مجتبائی دهلی له وظهورهم فيه (1) وحدۃ الوجود میں جو سخن مجمل سید نا اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز سے نقل ہوئے وہی قول فیصل ہے اور تفصیل اس کی سخت مبہم وموہوم ومشکل ہے، یہی وجہ ہے کہ صوفیہ خودا سے ہر کس و ناکس سے بیان نہیں کرتے ، اور اس کی اشاعت سے منع فرماتے ہیں اور عوام تو عوام، علماء ظاہر بلکہ ان صوفیہ کو بھی (جنہوں نے راہ سلوک ہنوز طے نہ کیا ہو ) اس کے فہم کا اہل نہیں سمجھتے، چنانچہ حاجی صوفی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی اپنے رسالہ وحدۃ الوجود میں فرماتے ہیں: ایں مسئلہ وحدۃ الوجود چناں نیست بلکہ دریں جا تصدیق قلبی و تیقن و کف لسان واجب است چرا که اسلام شرعی تعلق با خدا و با خلق دارد و اسلام حقیقی محض تعلق با خدا دارد، آنجا تصدیق با قرار ضرور است، ایجا تصدیق باید ، سوائے آن در استند ایں مسئلہ فائدہ ہمیں کہ اسباب ثبوت این مسئله بسیار نازک و نہایت دقیق عوام بلکہ فہم علمائے ظاہر کہ از اصطلاح عرفاء جاری اند قوت درک آن نمی دارد چه علماء بلکه صوفیا ئیکہ ہنوز سلوک خود تمام خاکرده باشند و از حکام نفس گزشتہ مرتبه قلب فارسیده قصر ضلالت سرنگوں می افتند بلکه گروه با افتاده اند کما شہد نا ہم نعوذ باللہ (۲) عینیت و اتحاد میان خالق و مخلوق کا قول صوفیہ کے موہمات و مشکلات میں اسی غلو کا نتیجہ ہے اور ان کی اصطلاح سے ناواقفی کا ثمرہ ہے اور اسے صوفیہ صافیہ کا مذہب سمجھنا جہالت ہے، وہ صاف صاف، اتحاد خالق ومخلوق کے عقیدہ کو الحاد و زندقہ بتارہے ہیں۔ یہی شاہ امداد اللہ مہاجر مکی رسالہ وحدۃ الوجود میں فرماتے ہیں: بدانکه در عبد ورب عینیت حقیقی لغوی ہر کہ اعتقاد دارد و غیریت تجمیع وجوه انکار کند محمد وزندیق است اندین عقیده که در عابد و معبود و ساجد و مسجود هیچ گونه فرق نمی ماند و ایں غیر واقع است (۳) (1) رعاية الانصاف والاعتدال في اعتقاد الصوفية من ارباب الحال برهامش اخبار الاخيار: از شیخ عبد الحق محدث دهلوی ص ۸۵، مطبع مجتبائی دهلی (۲) رسالہ وحدۃ الوجود از مجموعه کلیات امدادیہ امداد اللہ کی ص ۲۱۹ مطبع دار الاشاعت اردو بازار ایم اے جناح روڈ، کراچی پاکستان (۳) رساله وحدة الوجود از مجموعه کلیات امدادیہ۔ امداد اللہ کی ص ۲۲۲، مطبع دار الاشاعت اردو بازار ایم اے جناح روڈ ، کراچی پاکستان بلکہ وہ جو عینیت بولتے ہیں وہ اصطلاحیہ ہے جو غیریت کے ساتھ مجتمع ہو جاتی ہے اور اس کا مرجع و مال وہی وحدت وجود و وحدت موجود حقیقی مطلق ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ اس کے اعتبارات و ظلال و عکوس ہیں جن کے اوپر احکام حدوث و فنا و تغیر وزوال جاری ہوتے ہیں اور وہ موجود مطلق قدیم و باقی ، حدوث وفنا سے منزہ تغیر و تبدیل سے مبرا، لہذا ایک کا دوسرے پر اطلاق الحاد و زندقہ ہے بلکہ ان ظلال میں سے ایک کے مرتبہ کا دوسرے کے مرتبہ پر اطلاق بھی الحاد وزندقہ ہے۔ اسی رسالہ وحدۃ الوجود میں ہے: ور عہد ورب عینیت و غیریت ہر دو ثابت و تحقق است آں ہو تجھے وایں بوجھے اگر چہ در بادی النظر اجتماع ضدین محال می عاید (1) اسی میں ہے: کسانیکه بمجر دخوض در مسئله وحدة الوجود در زندقه افتاده اند از ناداستن مسئله عینیت و غیریت بوده است (۲) الروض المجود مصنفہ علامہ فضل حق خیر آبادی میں ہے: فاحكام التعينات بما هي تعينات لا تسرى الى الحقيقة المطلقة بما هي هي ولا احكامها بما هي هي تسرى الى التعينات ولا حكم تعين يسرى الى تعين آخر فلا يجوز ان يسند الى الحقيقة الحقة المطلقة ما يستند الى التعينات من الامكان والبطلان والمذلة والهوان والخسار والافتقار والخساسة والنجاسة والجوهرية والعرضية والكسافة والجسمية واللذة والألم والحدوث والعدم والجزئية والتأليف والعبودية والتكليف والتقوى والثواب والطغوى والعقاب الى غير ذلك لان تلك الحقيقة الحقة واجبة فلا تبطل وعزيزة فلا تذل وكاملة فلا تخسر وغنية فلا تفتقر كما لا يجوز ان يسند الى التعين بما هو تعين ما يسند الى الحقيقة المطلقة بما هى هى من الاطلاق والوجوب والقدم والكمال والجمال والعزة والجلال والقهر والسلطان وكمالايصح ان يسند الى (1) رسالہ وحدۃ الوجود از مجموعہ کلیات امدادیہ۔ امداد اللہ کی ص ۲۲۱، مطبع دارالاشاعت اردو بازار ایم اے جناح روڈ ، کراچی پاکستان (۲) رساله وحدۃ الوجود از مجموعه کلیات امدادیہ امداد اللہ کی ص ۲۲۱، مطبع دارالاشاعت اردو بازار ایم اے جناح روڈ ، کراچی پاکستان تعين ما يستند الى تعين آخر ولكل من مراتب الاطلاق والتعين اسم يخص بها و احكام مرتبة عليها و آثار مستندة اليها فاطلاق اسم مرتبة الاطلاق على مرتبة من مراتب التعين واطلاق اسم مرتبة من مراتب التعين على مرتبة الاطلاق او مرتبة اخرى من مراتب التعين زندقة والحاد-ملتقطا (1) ،، بالجمله: وجود واحد مطلق ہے اور عالم میں جو کچھ ہے وہ اسی کے تعینات و اعتبارات ومظاہر ہیں اور وہ تمام اپنے ثبوت و بقا میں اسی وجود مطلق کے محتاج اور وہ کسی کا محتاج نہیں، ان الله غنی عن العلمين وحدة الوجود حق وصادق ہے اور مراتب وجود میں فرق و امتیاز ایمان ہے اور خلط مراتب زندقہ و کفر مبین وخسر ان ہے۔ حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی علیہ الرحمہ فتاوی عزیزی میں فرماتے ہیں: وجود واحد در مراتب وجوب و امکان و قدیم و حادث و مجرد وجسمانی و مومن و کافر و نجس و طاہر ظاہر است لیکن ہر مظہر حکم جدا دارد، فرق در احکام مظاہر ضرور است مومن را حکم به نجات است و کافر را حکم بقتل واسر، وعلی ہذا القیاس در جمیع صفات متضاده چنانچه گفته اندے ہر مرتبہ از وجود حکم دارد گر فرق مراتب نہ کنی زندیقے (۲) شاعر بے شعور کے اشعار ملاحظہ ہوئے اشعار مذکورہ ضرور حلول و اتحاد و عینیت میں صریح ہیں اور اس کا حکم خود کلمات صوفیہ ( کہ نقل ہوئے) سے ظاہر ہے اور وہ یہ کہ یہ اقوال کفریہ ہیں اور قائل ملحد و زندیق اور اس پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی شب ۲ رذی قعد ه۱۳۹۹ھ