اسمائے الہیہ قہار وجبار کی حقیقت اور صفات باری تعالی کے قدیم ہونے کا بیان
کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ: (1) زید کہتے ہیں اللہ عزوجل کا رحمن و رحیم نام تو ہے مگر قہر و غضب ( قہار وجبار ) اس کا صفات ذات سے نام نہیں اس لئے یہ کہنا روا ہے کہ اللہ جل مجدہ ازلی رحمن و رحیم ہے مگر یہ کہنا مطلقا جائز نہیں کہ اللہ جل مجدہ ازل سے ہی غضب و قہر سے متصف ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وجود و ظہور میں فرق ہے وجود کو ظہور مستلزم نہیں پس ظہور رحمت کیلئے مرحوم کا ثابت ہونا لازم اسی طرح ظہور قہر کے لئے مقہور اور اللہ عز وجل کی کوئی صفت حادث نہیں بلکہ قدیم اور واجب ہیں تو یہ کہنا کیونکرنا جائز ہوگا ؟ (۲) اس شعر کا مطلب کیا ہے اور اس میں شرعا کوئی خرابی ہے یا نہیں؟ ز آنروی که چشم تست احول - منبع نور پیر تست اول بینوا توجروا
(1) قہار وجبار اللہ تعالیٰ کے اسماء صفاتیہ ہیں اور دونوں قرآن مجید فرقان حمید میں وارد ہیں۔ قال تعالى : هُوَ اللهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَثِرُ ) وقال تعالى : لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (٢) ان ناموں کو اسمائے الہیہ مانا جاننا ضروریات دین سے ہے جن کا انکار کفر ہے اور جب یہ دونوں خدائے تعالیٰ وسبحانہ کے نام ہیں تو صفت جبروت و قہر اس کے لئے از لاً ابداً ثابت اور انہیں اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت جاننا ماننا بھی امر ضروری ہے اور عقیدہ اہل سنت ہے اور سوال میں یہ جو تحریر ہوا کہ : ” قہر وغضب ( قہار وجبار ) اس کا صفات ذات سے نام نہیں، ان دونوں ناموں اور دونوں صفتوں کے انکار کا پہلو رکھتا ہے اور یہ جو کہا کہ : ” مگر یہ کہنا مطلقا جائز نہیں کہ اللہ تعالیٰ ازل ہی سے غضب و قہر سے متصف ہے“ اولا : عقیدہ اہل سنت پر طعن ہے کہ اہل سنت کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ہر صفت از لی ہے نہ کہ حادث کہ وہ محل حوادث نہیں ہے کما صرحوا بہ جمیعا اور یہ کھلی گمراہی بیدینی ہے بلکہ حسب ارشاد امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کفر ہے۔ فقہ اکبر میں ہے: صفاته تعالى فى الازل غير محدثة ولا مخلوقة فمن قال انها مخلوقة او محدثة او وقف فيها اوشك فيها فهو كافر بالله تعالى (۳) ثانیا: یہ خدائے تعالیٰ پر اعتراض کو مستلزم ہے۔ ثالثا : اس کے بقول لازم که رحمن و رحیم و رؤف و غفور وغیرھا اسمائے صفاتیہ کا اطلاق بھی خدا پر نہ ہو کہ یہاں بھی بعینہ اس کی یہ تقریر جاری کہ یہ کہنا مطلقا جائز نہیں کہ اللہ تعالی ازل ہی سے ان صفتوں سے متصف ہے تو جس وجہ سے وہ قہار وجبار ناموں کا انکار کرتا ہے وہی سب اسماء صفاتیہ کے انکار کی وجہ ٹھہرے گی ۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم زید پر تو بہ فرض ہے اور تجدید ایمان بھی کرے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اور سائل نے جو جواباً فر ما یاوہ حق و صحیح ہے۔ (1) سورة الحشر : ٢٣ (۲) سورة الغافر : ١٦ (۳) شرح فقہ اکبرص، ۲۹ ، مکتبه تهانوی دیوبند (۲) اور اس شعر کا مطلب فقیر کو ظاہر نہ ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله