کفار کے دلوں پر مہر اور جنگ بدر میں فریقین کی تعداد کے حوالے سے قرآنی شبہات کے جوابات
تعالیٰ عنہ کا ترجمہ وحاشیہ بھی پڑھا، کوئی جواب اس سے بھی سمجھ میں نہیں آیا۔ (۱) قرآن مجید میں جگہ جگہ ہے کافروں کو سزائے جہنم ہے۔ دوسری جگہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر کر دی ہے، تو اس میں کافروں کا کیا قصور ہے؟ ایشور ظالم ٹھہرتا ہے؟ (۲) جنگ بدر کے قصہ میں دوسرے پارے میں ہے کہ ہر ایک گروہ کو دوسرے کی تعداد دوگنی دکھائی دی اور دسویں پارے میں ہے کہ ہر ایک کو دوسرے کی تعداد کم دکھائی دی، کیا ایسا متعارض کلام خدا کا ہو سکتا ہے، یہ بناوٹی کتاب ہے۔ المستفتی: احقر محمد عثمان کالا ڈھونگی/ ۵/نومبر ۱۹۶۱ء
الجواب: (1) یہ آپ کے ٹیچر صاحب کا خبط ہے کہ خدائے قدوس کو ظالم گردان رہے ہیں ، خدا ظلم سے اور ہر عیب، ہر نقص سے پاک ہے، وہ سب کا مالک ہے اور سب اس کی ملک، تو اس کا ظالم ہونا ہرگز متصور نہیں کہ ظالم تو وہ ہوتا ہے جو دوسرے کی ملک میں بے اجازت مالکانہ تصرف کرے اور یہیں سے یہ سوال کہ وہ عذاب کیوں فرماتا ہے، منقطع، کہ جب وہ کل کا مالک ہے تو وہ جس طرح چاہے اپنی ملک میں تصرف فرمائے ، اس پر اعتراض نہیں اور بندوں پر ان کی گمراہی و بے دینی کے سبب اعتراض ہے، اور بندے مجبوری محض کا عذر نہیں کر سکتے کہ ہر انسان خود اپنے اور پتھر کے درمیان فرق ظاہر محسوس کرتا ہے تو قطعا یہ سمجھتا ہے کہ خدائے برتر نے مجھے ایک گونہ اختیار عطا فرمایا ہے جو پتھر وغیرہ مخلوقات کو نہ دیا اور اسی اختیار کو تمام حکام دنیا مجرم کی دنیوی سزا کا موجب جانتے ہیں حالانکہ تمام اہل ادیان یہ بھی مانتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا ، ہورہا ہے اور جو ہو گا سب ازل میں مقدر ہے اور اس کے خلاف نہیں ہوسکتا با جو اس کے کوئی شخص احکام دنیا میں کسی مجرم کو مجبور نہیں سمجھتا بلکہ سزا کا مستحق جانتا ہے تو وہی اختیار مدار کار ہے والہذانا سمجھ، بچے، پاگل جانور کو سزا نہیں دیتے۔ بلا تشبیہ اسی اختیار پر خدا نے جزاوسزا کو آخرت میں رکھا ہے اور جو خدا پر معترض ہے اس نے قضا کو بھی نہ جانا ، خدا کے کلام کو کیا پہچانے گا ؟ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) تعداد کا کم دکھائی دینا جنگ سے پہلے تھا تا کہ ایک دوسرے پر دونوں فریق جری ہوں اور تعداد کا زیادہ دکھائی دینا دوران جنگ تھا تو تعارض نہیں اور یہ بات خود آل عمران کی آیت کریمہ سے ظاہر ہے، چنانچہ ارشاد ہے: قَد كَانَ لَكُمُ ايَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَ أُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأَى الْعَيْنِ وَ اللهُ يُؤَيَّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولى الْأَبْصَارِ یعنی بے شک تمہارے لئے نشانی تھی دو گروہوں میں جو آپس میں بھڑ پڑے، ایک جتھا اللہ کی راہ میں لڑتا اور دوسرا کافر کہ انہیں آنکھوں دیکھا اپنے سے دو نا سمجھا اور اللہ اپنی مدد سے زور دیتا ہے جسے چاہتا ہے، بے شک اس میں عقلمندوں کے لئے ضروردیکھ کر سکھنا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱ ؍رجب المرجب ۱۴۰۱ھ