سیدنا خضر علیہ السلام کی نبوت اور ولی کو نبی پر فضیلت دینے والے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ھذا میں کہ: زید کہتا ہے کہ ولی کو نبی پر فضیلت قرآن عظیم سے ثابت ہے جیسا کہ حضرت خضر علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت حاصل ہے جبکہ زید حضرت خضر کو ولی حضرت موسیٰ کو نبی مانتا ہے بکر کہتا ہے کہ ولی کو نبی پر ہرگز فضیلت حاصل نہیں ”فتاویٰ رضویہ جلد ششم میں ہے غیر نبی را بر نبی تفضیل کفر است الخ اسی طرح بہار شریعت میں ہے اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ولی کو نبی پر فضیلت دینے والا زید عند الشرع کیسا ہے؟ اور اس کے لیے کیا حکم ہے تجدید ایمان و تجدید نکاح اور تو بہ اس پر واجب ہوئی یا نہیں؟ واضح ہو کہ زید کو بکر نے اعلیحضرت قدس سرہ کی عبارت جلد ششم فتاوی رضویہ ص ۱۲۱ پر بھی دیکھا یا لیکن زید اس کے ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ علماء کی تصریح کے بعد ہی جو حکم عائد ہوگا اسپر عمل کروں گا۔ المستفتی: محمد حبیب الرحمٰن حبیبی ، ۵۵ رفیل خانه اشمالین ہاوڑہ بنگال
الجواب: حق و صحیح اور محققین کے نزدیک معتمد و مرجح یہی ہے کہ سیدنا خضر علیہ السلام نبی ہیں زید پر اسی مذہب کی پیروی اور اسی پر اعتماد لازم اور قول مرجوح کو اختیار کرنا نا جائز ۔ درمختار میں ہے: الفتيا بالقول المرجوح جهل وخرق للاجماع (۱) اور اس مرجوح قول سے نبی پر ولی کی فضیلت کی بنا رکھنا بناء فساد علی الفاسد ہے اور عقیدہ ضرور یہ دینیہ جو تمام امت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے کا انکار ہے جو لوگ خضر علیہ السلام کو ولی کہتے ہیں وہ بھی اس کے قائل نہیں کہ غیر نبی نبی سے افضل ہے بلکہ فضیلت کلیہ انبیا کے لئے مانتے ہیں اور فضیلت جزئیہ اس کی منافی اور مزاحم نہیں زید پر تو بہ فرض ہے اور تجدید ایمان وغیرہ بھی ضروری ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (1) ۲۸ رصفر المظفر ۱۴۰۹ھ الدر المختار، ج ۱، ص ۱۷۷، ۱۶، المقدمه، دار الكتب العلمية، بيروت صح الجواب! قال الامام فخر الملة والدين رحمه الله تعالى في تفسيره "يجوز ان يكون غير النبي فوق النبي في علوم لا تتوقف نبوته عليها“ (۱)۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی