اللہ کے رسول پر صلوٰۃ وسلام عین ذکر الہی ہے اور قیاماً صلاۃ وسلام کا ثبوت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر دور حاضر میں مسلمانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ بعد نماز جمعہ مسجد میں یا وعظ کے بعد یا میلاد شریف کے موقع پر یا قرآن خوانی کے بعد صلاۃ وسلام حالت قیام میں پیش کرتے ہیں کیا یہ شرعاً جائز ودرست ہے؟ یہ حکم درود و سلام حضور ہی کے زمانہ میں نازل ہوا تھا تو کیا صحابہ کرام نے آپ کے زمانہ حاضر میں کیا؟ حالت قیام میں سلام پیش کیا ؟ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال شریف کے بعد اس عمل کو اپنایا، جو عمل آج کل ہو رہا ہے؟ کیا امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے اس عمل کو اپنایا ؟ اگر ہے تو مدلل ثبوت وحوالہ جات کے ساتھ تحریر فرما کر ہماری رہنمائی فرمائیے گا عین نوازش ہوگی ۔ اور ثبوت کے پیش کرنے کے بعد ان حضرات کا سلام پڑھنے کا طریقہ کار کیسا تھا اور ہم مسلمانوں کو کس طرح سلام بارگاہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش کرنا ہے درج فرمائیں۔
الجواب: (1) المسلطانی: سید عباس، کرناٹک بلاشبہ جائز و مستحسن ہے کہ اللہ کے رسول پر صلاۃ وسلام عین ذکر الہی ہے۔ حدیث میں ہے: جعلتک ذکر آمن ذکری فمن ذکرک ذکر نی (۱) یعنی میں نے تیری یاد کو اپنی یا د کیا تو جس نے تجھے یاد کیا اس نے مجھے یاد کیا۔ اور ذکر کے لئے یوں ہمیں اختیار دیا کہ فَاذْكُرُوا اللهَ قِیَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِكُمْ اللہ کا ذکر کرو کھڑے بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر (۲) كتاب الشفا بتعريف حقوق المصطفى الفصل الاول فيما جاء من ذالک مجئ المدح، ج ا ، ص ۲۴ ، المكتبة العصرية بيروت (۲) سورة النساء: ۱۰۳ تو بحالت قیام صلاۃ وسلام عین حکم الہی کی تعمیل ہے اور صلاۃ وسلام کے لیے شرع میں کوئی وقت مخصوص نہیں تو بعد نماز یا بعد وعظ یا کسی وقت میں ممانعت کا دعویٰ نئی شریعت گڑھنا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۷ رمضان المبارک