بعد نماز یا وعظ بحالت قیام صلاۃ وسلام کے ثبوت اور صحابہ کرام کے طرز عمل کی وضاحت
(1) آج کل آئے دن معترضین ان باتوں پر اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ کیا دور صحابہ یا غوث و خواجہ و دیگر مشہور و معروف اولیائے کرام نے کبھی کسی وقت بحالت قیام بعد نماز جمعه یا دیگر وعظ وغیره اوقات پر صلوۃ وسلام پڑھا؟ یا پڑھنے کا حکم فرمایا ؟ جبکہ صحابہ کرام کا عشق عام مسلمانوں کی بہ نسبت زیادہ تھا گویا اس طرح صلاۃ وسلام پڑھنے والوں کو روکا جاتا ہے لہذا دور صحابہ یا دورغوث و خواجہ وائمہ مجتہدین میں اس کا ثبوت ہو تو مع حوالہ کے ہماری اصلاح فرمائیں۔
الجواب: لمستفتی: محمد ابراهیم کیراف محمد آدم جی جامانا روڈ چھتر پر بودهاس اندھیری مینی (۱، ۲) اللہ عز وجل نے صلاۃ وسلام کا حکم مطلق دیا ہے قال تعالیٰ: إِنَّ اللهَ وَمَليكتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِي يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تسليما یعنی بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس نبی پر اے ایمان والو تم بھی ان پر درود وسلام بھیجو۔ (۱) آیت کریمہ سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صلاۃ وسلام کے لیے کوئی وقت مخصوص نہ فرمایا تو جس وقت میں صلاۃ وسلام پڑھا جائے حکم خداوندی کے عین مطابق ہوگا۔ اور اس سے ممانعت اللہ عز وجل اور رسول اللہ علیہ السلام سے مخالفت ہے قال تعالیٰ: وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى - الآية (٢) اور کسی شئی کی حرمت کا یہ معیار ٹھہرانا کہ دور صحابہ وغیر ہم میں نہ ہوا، غلط و باطل ہے کہ شرعاً حرام وہ ہے جسے اللہ ورسول جل و علا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ممنوع فرمایا ہو اور جسے اللہ تعالیٰ و رسول علیہ الصلاۃ والسلام نے ممنوع نہ فرمایا اسے حرام بتا نا خود حرام ہے پھر اس معیار مزعوم سے یہ لازم آتا ہے کہ صحابہ وغیر ہم کے زمانہ میں جتنی بھی بدعات و منکرات ہوئی ہوں وہ سب جائز ٹھہریں اور اس امر کا علم کیونکر ہوا کہ صحابہ وغیرہ کے دور میں صلاۃ وسلام قبل اذان و بعد نماز نہیں ہوتا تھا اور جب صراحۃ اس کی نفی معلوم نہیں تو محض رجماً بالغیب یہ کہہ دینا کہ صحابہ وغیر ہم کے زمانہ میں یہ کام نہ تھا محض اٹکل سے حکم لگانا ہے۔ بالجملہ یہ معیار مزعوم نا قابل عمل ہے اور صلاۃ وسلام مطلقا جائز ومستحسن ہے اور اس سے ممانعت (1) (۲) سورة الاحزاب: ۵۶/کنز الایمان سورة النساء: ۱۱۵ وہابیہ کا کام ہے اور دعا وفاتحہ بعد نماز جنازہ بھی جائز وخوب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی