آسمان سے نئی کتاب اترنے کا دعویٰ کرنے کا حکم اور ختم نبوت کا عقیدہ
ایک مرتبہ بکر اور زید کی مسئلہ حی علی الفلاح کے بارے میں کافی بحث ہوئی بکر کا کہنا ہے حی علیٰ الفلاح پر کھڑا ہونا چاہئے اور زید کا کہنا ہے کہ حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا ضروری نہیں بعدہ بکر نے زید کوحی علی الفلاح پر کھڑے ہونے کے ثبوت میں علمائے احناف کی کتب پیش کیں اور حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا ثابت کر دیا پھر زید نے کہا کہ میں اس بارے میں عدم جواز کا ثبوت پیش کرسکتا ہوں اس کے بعد زید خاموشی اختیار کر کے بیٹھ گیا جب زید کو خاموشی کی حالت میں دس یا بارہ یوم گذر گئے تو بکر نے زید سے اس کے عدم جواز کا ثبوت طلب کیا اور چند مرتبہ کہا تو زید نے غصہ میں آکر اس کے جواب میں تقریباً پندرہ ہیں آدمیوں کے سامنے یہ الفاظ استعمال کئے میاں آسمان سے ایک کتاب نازل ہونے والی ہے جب وہ نازل ہو جائے گی تو آپ کو ثبوت دکھا دوں گا۔ (1) دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کا یہ کہنا کہ آسمان سے ایک کتاب نازل ہونے والی ہے میں اس میں دکھا دوں گا ، از روئے شرع کیا ہے؟ ایسے آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ جبکہ زید اپنے آپ کو با شرع اور دین کا ذمہ دار آدمی سمجھتا ہے اور پیر طریقت کا سلسلہ بھی رکھتا ہے برائے مہربانی قرآن کریم اور حدیث طیبہ کی روشنی میں جواب صواب سے نوازیں۔
(۱) حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نبی آخر الزماں ہیں ان کے بعد کوئی نیا نبی نہ ہوگا ان پر جو کتاب ( قرآن ) اترے گی وہ آخری کتاب ہے جس کے بعد کوئی نئی کتاب نہ اترے گی ۔ قال اللہ تعالیٰ: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنِ - الآية قائل مذکور کا یہ قول ختم نبوت کا انکار ہے اور یہ کفر ہے ۔ تتمہ واشباہ میں ہے: ،، اذالم يعرف ان محمدا (صلی الله علیه وسلم) آخر الانبیاء فليس بمسلم اس پر توبہ تجدید ایمان فرض ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی۔ واللہ تعالیٰ اعلم