محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کی جان اور اعمال کی اصل ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید عالم دین ہیں اور ایک مسجد میں امامت فرماتے ہیں۔ عالم صاحب نے ایک روز اپنی تقریر میں ارشاد فرمایا کہ نہ نماز پڑھنے سے مسلمان ہو نہ نذرونیاز کرنے سے، جب تک محبت رسول اللہ نہ ہو کوئی چیز کام نہ آئیگی۔ گاؤں کے لوگ کہنے لگے کہ نذرو نیاز فاتحہ وہابی کے یہاں نہیں ہوتی ۔ تو امام صاحب نے فرمایا کہ اگر تم لوگ ہم کو وہابی جانتے ہو تو تم لوگوں کی نماز ہمارے پیچھے نہیں ہوگی۔ حالانکہ امام صاحب سنی ہیں۔ اگر کوئی بھی شخص مندرجہ بالا مذکورہ بیان سے امام کو وہابی جانے تو اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہوگا ؟ خلاصہ تحریر کریں۔ المستفتی : عبدالواحد رگونه شادی پور ڈاکخانہ بجوره، بریلی شریف
الجواب: فی الواقع محبت سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کی جان اور اعمال کی اصل ہے۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں تم میں سے کوئی مومن نہ ہو گا جب تک مجھے اپنے باپ بیٹے اور سب جہاں کے لوگوں سے زیادہ عزیز نہ رکھے۔ (حدیث)(۱)
اور امام کو وہابی سمجھنا اس وجہ سے ہو تو غلط و باطل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم