عقیدہ حاضر و ناظر اور اس کے منکر کا حکم
حضور علیہ السلام حاضر وناظر ہیں،مسئلہ حاضر و ناظر ضروریات اہلسنت سے ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : کلو کا کہنا ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہر جگہ موجود نہیں ہیں، وہ صرف مدینہ منورہ کے اندر روضہ انور میں حیات سے ہیں ، امت کے حالات ان تک فرشتوں کے ذریعہ پیش کئے جاتے ہیں، سرکار ہر جگہ موجود نہیں رہتے ، کلو کے ایسا کہنے سے کہ ”سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یاد کرنے پر بھی ہر جگہ موجود نہیں ہوتے محمد اور میں کہتا ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ ہے اس جگہ پر رسول بھی حاضر رہتے ہیں جو ہر جگہ ان کو حاضر و ناظر نہیں سمجھتا ہے وہ مسلمان نہیں ہے۔ محمد ادریس قسم قرآن کی کھا کر کہتا ہے، کلو کے سوال کا جواب دینے کے بعد کلو کو مسلمان نہیں سمجھتا ہوں ! راقم محمد ادریس قریشی گھائیور کاتب محمد علیم قریشی بقلم خود
الجواب: بے شک حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حاظر و ناظر ہیں بایں معنی حقیقت محمدیہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اللہ تبارک و تعالیٰ کا عظیم نور ہے جس سے اللہ عز وجل نے تمام خلق کو ایجاد فرمایا اور جو کچھ موجود ہے اس میں نور محمدی صلی اللہ تعالیٰ علی ذلک النور القدسی موجود اور اسی سے اس کی بقا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: قَد جَاءَ كُمْ مِّنَ اللهِ نُورُ وَ كِتَبٌ مُّبِينٌ (۱) بے شک تمہارے پاس اللہ کا نور آیا اور روشن کتاب۔ حدیث پاک میں ہے: یا جابر ان الله تعالى خلق قبل الاشياء نور نبیک من نوره “(۲) اے جابر اللہ تعالی نے تیرے نبی کے نور کو اشیاء سے پہلے اپنے نور سے پیدا فرمایا۔ علامہ محقق عارف باللہ سید عبد الغني النابلسی قدس سرہ حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں: وو وقد خلق كل شئ من نوره (۳) اور نبی کے نور سے ہر شے بنائی۔ اسی لئے تمام زمانے اور سب جہاں کے علماء بالاتفاق حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو حاظر و ناظر مانتے ہیں اور اس باب میں کسی کا اختلاف نہیں۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی ”اقرب السبل“ میں فرماتے ہیں: و با چندمیں اختلافات و کثرت مذاہب که در علمائے امت است یک کس را در میں مسئلہ خلافے نیست کہ آں حضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم حقیقت حیات بے شائبہ مجاز و تو ہم تاویل دائم و باقیست و بر اعمال امت حاضر و ناظر و مر طالبان حقیقت را متوجهان آن حضرت را مفیض و مربی است اور اسی لئے تشہد میں حکم ہے کہ عرض کرو : السلام علیک ایھا النبی ورحمة الله وبركاته “ جس سے ثابت کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مؤمن کی نگاہوں کے سامنے ہیں اور ہر عبادت گزار کا یہ نصب العین ہے، یہی محقق مذکور اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں: و نیز آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نصب العین مومنان وقرة العین عابداں ست در جمیع احوال و اوقات خصوصاً در حالت عبادت، پس مصلی باید که از یں شہود غافل نبود تا بانوار قرب و اسرار معرفت متنور و فائض گردد ملخصا فتح الباری میں ہے: ويحتمل ان يقال على طريق اهل العرفان ان المصلين لما استفتحوا باب الملكوت بالتحيات أذن لهم بالدخول في حريم الحى الذى لايموت فقرت اعينهم بالمناجات فنبهوا على ان ذلك بواسطة نبي الرحمة وبركة متابعته التفتوافاذا الحبيب في حرم الحبیب حاضر الخ۔ اسی لئے علماءحکم فرماتے ہیں کہ الفاظ تشہد سے انشاء کا قصد کرے گویا کہ وہ اللہ کو تحیت کرتا اور نبی علیہ السلام کو سلام عرض کرتا ہے۔ در مختار میں فرمایا: ويقصد بالفاظ التشهد الانشاء كانه يحيى الله تعالى ويسلم على نبيه الخ۔ اور جب یہ حضور اکرم اس نور اعظم کے اعتبار سے ہے جس کا اطلاق قرآن عظیم نے اس ذات والا صفات یعنی محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر فرمایا اور اس نور کو مطلق بلا قید ظاہری و باطنی و حسی و معنوی اول و آخر رکھا اور پھر ظاہر کہ تمام مقیدات کے افراد ہوتے ہیں اور ان تمام افراد میں مطلق کی حقیقت موجود ہوتی ہے تو بحمدہ تعالیٰ ظاہر کہ حقیقت محمدیہ تمام مقیدات میں موجود کہ یہ سب اس کے افراد ہیں اسی لئے تمام عرفاء فرماتے ہیں کہ حقیقت محمدیہ ذرات اکو ان وافراد کون و مکاں میں جاری وساری ہے۔ یہی شیخ محقق اشعۃ اللمعات میں عبارت گزشتہ کے متصل فرماتے ہیں: و بعضی از عرفاء گفته اند که این خطاب بہت سریان حقیقت محمد یه است در ذرائر موجودات و افراد ممکنات (1) ابریز شریف میں سیدی عبد العزیز د باغ علیہ الرحمۃ سے ہے: واكبر الارواح قدرا و اعظمها حجما روحه صلی الله تعالى عليه وسلم فانها تملاً السموات والارضين الخ“(۲) نیز اسی میں ہے : ”لان لذاته صلى الله تعالى عليه وسلم نورا منفعلا عنها قد امتلأ به العالم كله فما من موضع منه الا وفيه النور الشريف (m) بالجملہ مسئلہ حاضر و ناظر ضروریات اہل سنت سے ہے اور اس زمانے میں اہل سنت کی ایک پہچان وہابیہ کارد ہے کہ وہابیہ بد مذہب ہے، کلو کا انکار اگر بر بنائے وہابیت ہے تو وہابیہ مسلمان نہیں تو اس کا بھی وہی حکم اور اگر براہ ناواقفی انکار کرتا ہے تو مسلمان سے خارج نہیں ، ہاں تو بہ ضرور ہے کہ بے جانے امور دینی میں مداخلت حرام اور محمد اور میں نے جو یہ کہا کہ خدا ہر جگہ موجود ہے عقیدہ اہل سنت کے بہ ظاہر مخالف ہے کہ اللہ تعالیٰ پر زمان و مکان جاری نہیں ہوتے لہذا وہ بھی تو بہ کرے اور تجدید ایمان بھی کرے واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله