غیر خدا کے لئے علم ذاتی ماننا بلاشبہ شرک اور کفر ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید نے بکر سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علم غیب کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں تو بکر نے کہا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو کچھ ذاتی علم غیب تھا اور باقی عطائی تو پھر زید نے بکر سے کہا کہ آپ غلط کہتے ہیں تو بکر نے جواب دیا کہ ہم آپ کو کچھ ذاتی علم غیب کا ثبوت دیں گے بکر کے اس بات پر زید نے بکر سے کہا کہ مولانا آپ تو بہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح کرلیں لہذا قرآن وحدیث کی روشنی میں بکر کی بات صحیح ہے یا زید کی؟ اور شریعت مطہرہ کے نزدیک ان دونوں میں کون مجرم ہے اور زید وبکر پر شریعت کا کیا حکم ہے خلاصہ جواب سے عنایت فرمائیں ، فقط !
الجواب: علم ذاتی خاصہ جناب باری تعالیٰ ہے جو اس کا ایک ذرہ غیر خدا کے لئے مانے بلاشبہ مشرک بے دین ہے زید صحیح کہتا ہے، بکر پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح اگر بیوی رکھتا ہولا زم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ