در و دو سلام بارگاہ خیر الانام بھیجنا جائز و مستحسن و برکات دارین للا نام ہے!
ہم سنی مسجد مبارک کمیٹی اہل سنت و الجماعت آپ علمائے دین ومفتیان شرع مبین سے قرآن و حدیث کی روشنی میں فتوی چاہتے ہیں جو آپ فتوی دیں گے ہم سب اس پر عمل کریں گے: سوال : ہماری سنی مسجد مبارک اہل سنت و الجماعت میں صلوۃ وسلام پڑھنے پر جھگڑا ہوا ،اس وقت کورٹ میں چار مقدمے چل رہے ہیں ایک مہینے میں چھو تاریخیں پڑتی ہیں ، ہماری کمیٹی کسی بھی وہابی دیو بندی سے نہیں گھبراتی ہم وہابی دیوبندی سے لڑ رہے ہیں ، ہم پر اللہ تعالیٰ اور شان محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بہت بڑا کرم ہے اور ہم سب پر انبیا، اولیا، اقطاب،اغواث، ابدال و پیر ومرشد کی مدد ہے،
الجواب: صلوۃ و سلام حضور سرور انام جناب احمد مجتبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگا میں بھیجنا بلا شبہ جائز ومستحسن و برکات دارین ہے اللہ جل و علانے مطلق حکم صلاۃ وسلام کا فرمایا کسی وقت یا مکان کی تقید نہ فرمائی اپنی طرف سے قید لگا نا قرآن میں تحریف معنوی ہے اس کا مرتکب گمراہ بددین ہے اور اسے گا نا بتانے والا سخت اہانت امر مستحب و مستحسن کا مرتکب اور اشد حکم کا مستوجب تو بہ وتجدید ایمان اس پر لازم ہے اور یہ دیو بندی ہی کے شایان شان ہے کہ بک دیا کہ: ”اسلام مذہب کہتا ہے کہ مذہب کی کسی وجہ سے جھگڑا ہے، توالخ“ سبحان اللہ مذہب کی بات صلوۃ وسلام کو مان کر اسے جھگڑے کی وجہ بتا تا ہے کیا خوب طور دانی مذہب کی ہے اور در حقیقت یہ تو اپنے منہ اپنے کو جھگڑالو کہتا ہے اور مذہب کا مخالف بنتا ہے ان نادانوں سے پوچھوکہ تم دیکھو، کوئی دھرم نہیں کہ سکتا کہ جب مذہب سے جھگڑا ہو تو مذہب کو ختم کردو العیاذ باللہ رب العلمین۔ بالجملہ وہابیہ ملاعنہ کا اعتراض محض باطل اور عداوت رسول علیہ الصلوۃ والسلام سے ناشی ہے اور ان کے اس مقولہ سے مذہب تیمی صاف ظاہر ہے ان سے احتراز لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ