درود ابراہیمی کے موجد یا کاتب کو نالائق کہنے والے کا حکم
زید نے چند آدمیوں کے سامنے کہا کہ یہ درود ابراہیم جو نماز میں پڑھی جاتی ہے اس کا لکھنے والا یا ایجاد کر نے والا نالائق ہے۔
مسئله - ۱۰۵ تا ۱۰۶ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ عصمت انبیاء کا منکر کافر ہے !درود ابراہیمی کے موجد کو نالائق بتانے والا خارج از اسلام ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ذیل مسائل کے بارے میں کہ: (1) زید نے چند آدمیوں کے سامنے کہا کہ یہ درود ابراہیم جو نماز میں پڑھی جاتی ہے اس کا لکھنے والا یا ایجاد کر نے والا نالائق ہے۔ (۲) زید نے یہ بھی کہا ہے کہ نبی عالی ام معصوم نہیں ہیں لہذا ایسا عقیدہ لکھنے والا شخص مسلمان ہے یا نہیں؟ زید مسجد کا امام ہے اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں اس کو اپنا امام بنا ئیں یانہیں؟ فقط ۔ المستفتی :نظر حسن موضع مد الا فتح پور کر پوگند سنبھل مراد آباد الجواب: (۱، ۲) زید بے قید اپنے دونوں مقالوں سے خارج از اسلام ہو گیا، تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح کر کے پھر سے اسلام میں داخل ہو ورنہ ہر مسلمان واقف حال پر فرض ہے کہ اسے چھوڑ دے، اس کا پہلا مقالہ حضور سرور انبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم اور جملہ صحابہ کرام و تابعین عظام و علمائے اسلام کو صریح دشنام ہے اور دوسرا بھی انبیائے کرام کی جناب میں گندی گالی کہ جب انھیں معصوم نہیں جانا تو ان کا گناہوں سے ملوث ہونا ممکن جاننا اور یہ خبر الہی کو جھوٹا جاننا ہے۔ لَا يَنَالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ میری نبوت کا وعدہ ظالموں کو نہیں پہنچے گا اور خبر الہی کا جھوٹا ہونا محال تو انبیائے کرام سے صغائر و کبائر کا صدور محال ہے اور یہی عصمت انبیاء سے مراد ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے اور اس کا منکر بلا شبہ کا فر و مرتد بے دین ہے اس کی نماز نماز نہیں لہذا اس کی اقتدا باطل ہے۔ کفایہ میں ہے: ،، والكافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (۲) اور جانتے ہوئے اس کو امام بنانا اسکی تعظیم ہے اور کافر کی تعظیم کفر ہے۔ در مختار میں ہے: ،، تبجیل الکافر کفر (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ