گستاخ رسول اور غلط تاویل احادیث و کلمہ طیبہ کرنے والے کا حکم
بیٹھک رکھنے والے کیسے ہیں اور احادیث سمجھادیجئے۔ لمستفتی محمد عرفان، کلٹری حیدرآباد
الجواب: لا اله الا الله محمد رسول الله شخص مذکور صریح تو ہین تنقیص حضور شفیع یوم النشور کا مرتکب اور مسئلہ ضرور یہ دینیہ کا منکر ہے اور کافر ہے احادیث کریمہ بے شک حق اور مؤمن کا ان پر ایمان ہے مگر جو مطلب اس بے دین نے اپنی کج فہمی سے چھانٹاوہ ہرگز ان سے ثابت نہیں پہلی حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جس عورت سے نکاح کا ارادہ ہوا سے دیکھنا چاہئے کہ اس کے محاسن و معائب پر نظر پڑ جائے کہ بعد نکاح ندامت نہ ہو اور حسن اتفاق کا موجب ہوا اسے تحقیر سے کیا علاقہ؟ لاحول ولاقوة الا بالله العلی العظیم۔ پھر ترجمہ جو نقل کر کے لایا کہ انصاری عورت میں کچھ خرابی ہوتی ہے، الفاظ حدیث سے مطابق نہیں خدا جانے یہ غلطی مترجم کی ہے یا اس ناقل کی ہے، حدیث میں یوں ہے : ” فان فی أعین الانصار شيئا‘) یعنی اس لئے کہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے۔ حضور اقدس صلہ اسلام کے اس ارشاد پر اعتراض کی کوئی وجہ نہیں کہ ضرورت کے وقت ایسے وصف کا بیان جو از دواجی زندگی میں مخل نہ ہو جائز ہے پھر یہ بھی تو دیکھو کہ حضور عیب پوش خلق سلایا کہ تم نے اس پر بھی شیئا “ کا لطیف پردہ ڈالا ہے، دوسری حدیث سے جو مطلب چھانٹا کہ محمد رسول اللہ کہنا ضروری نہیں یہ بھی ملحدانہ ہوس ہے، یہاں فقط لا اله الا اللہ دیکھ کر یہ بک دیا اور یہ نظر نہ آیا کہ اسی مشکوۃ کے کتاب الایمان میں جگہ جگہ شہادت لا اله الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ کی شہادت کو ذکر کیا ہے ۔ اور اسی مشکوۃ میں وہ حدیث بھی ہے : ”امرت ان اقاتل الناس،، حتى يقولوا لا اله الا الله فاذا قالو الا اله الا الله عصموا منی دمائهم واموالهم الا بحقها (۲) (ترجمہ) یعنی مجھے حکم ہوا کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار کریں تو جب یہ کہہ لیں تو مجھ سے اپنے مال اور اپنی جانوں کو انہوں نے بچالیا مگر حق کے ساتھ۔ تیسری حدیث سے جو اس بے دین نے حضور پر نا انصافی کا الزام لگا یا محض کج فہمی ہے ۔ مشکوۃ میں ہے: عن ابی ھریرة قال: قالت الانصار للنبي وال اقسم بيننا وبين اخواننا النخيل قال لاتكفوننا المؤنة ونشرككم في الثمرة قالو اسمعناواطعنا_رواہ البخاری(1) حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حضور انصار کرام آئے اور اپنے مہاجر بھائیوں کے لئے یہ مخلصانہ پیش کش رکھی کہ حضور آپ ہمارے کھجور کے درختوں کو ہمارے آپس میں بانٹ دیجئے نا منظور فرما دیا کہ تم اپنے پیڑا اپنی ملک پر باقی رکھو، کیا تم محنت و مشقت گوارہ نہیں کرتے ہو؟ اور ہمیں پھلوں میں شریک نہیں کرتے ہو، یعنی تم تو پہلے ہی مہاجرین کو اپنے پھلوں میں شریک کئے ہوئے ہو اور آبیاری وغیرہ کی گوارہ کر رہے ہو، یہی کافی ہے ، یہ اس تقدیر پر ہے کہ ”لا“ سے پہلے ہمزہ استفہام مقدر ما نہیں اور ”لا“ کو ” تكفوننا “ پر داخل مانیں اور اگر ”لا“ کو ماسبق سے متعلق کہیں تو تکفو ننا‘ خبر بہ معنی امر ہو جائے گا اور مطلب یہ ہوگا کہ تمہارے پیٹر میں تقسیم نہیں کرتا تم حسب دستور وہی کرو جو تم کرتے تھے، یعنی درختوں کی دیکھ بھال اور پھلوں میں شریک کرنا اور انصار کرام خود اپنی خوشی سے محنت گوارا کرتے کہ مہاجرین کرام کھیتی سے واقف نہ تھے پھر پھلوں میں انھیں شریک کرتے ، مجمل ذلک محصل ما اخذ فى اشعة اللمعات والطیبی (۲) بالجملہ اس کے اعتراض واہیات ہیں اس پر ان سے تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (1) مشكوة المصابيح باب الشركة الفصل الاول ص ۲۵۴، مطبع مجلس برکات مبارکپور اعظم گڑھ (۲) اشعة اللمعات حصه ۳ ص ۵۳ ، باب الشركة والوكالة مطبع نوریه رضویه سکهر پاکستان