حضور ﷺ کے لیے علم غیب کا ثبوت اور منکر کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: (1) زید کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو علم غیب نہیں ہے اگر علم غیب ہوتا تو جبرئیل عا علیہ السلام پیغام لے کر کیوں آتے؟
(۱) حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے علم غیب کی مطلقاً نفی کرنا کفر ہے کہ قرآن پاک کی تکذیب ہے۔ قرآن عظیم فرماتا ہے: وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ . )) اللہ نے تمہیں اے محبوب وہ سکھایا جو تم نہ جانتے تھے۔ اور فرماتا ہے: فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى (۲) تو اللہ نے اپنے بندے محمد صلای اسلامی کی طرف وحی کی جو وحی کی ۔ اور فرماتا ہے: ذلك من أنباء الغَيْب - الآية ( ) یہ غیب کی خبروں سے ہے۔ اور فرماتا ہے: وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنِ ) اور یہ غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ غیب کی خبروں پر تھم نہیں، زید کا یہ کہنا کہ اگر علم غیب ہوتا تو جبرئیل علیہ السلام پیغام لے کر کیوں آتے ؟ طرفہ جہالت ہے، یہ کون کہتا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خود بلا واسطہ غیب جانتے ہیں یہ شان تو اللہ تعالیٰ کی ہے کہ اس کا علم ذاتی ہے جو غیر سے مستفاد نہیں جو علم الہی ذاتی کا ایک ذرہ اللہ کے لئے ثابت کرے وہ مشرک ہے اور یونہی علم عطائی کا ایک ذرہ اللہ کے لئے ثابت کرے وہ کافر ہے زید پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) یہ زید کی جاہلانہ بکواس ہے مردو د اردو میں سب و شتم کے طور پر بولا جاتا ہے اس سے کیا ضرور کہ عربی میں بھی اسی طرح استعمال ہو یہ قرآن پہ اعتراض کرنے چلا ، تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) میلادخوانوں کے لئے ممبر اور سامعین کے لئے دری تعظیم ذکر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے بچھائی جاتی ہے۔ اور اس کا یہ کہنا کہ ” جہاں ذکر خیر پاک ہوتا ہے۔الخ یہ بھی جاہلانہ اعتراض ہے فرشتے مسلمانوں کے گھر آتے ہیں بتائے کہاں بیٹھتے ہیں، یہ کس کا عقیدہ ہے کہ ہر مجلس میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لاتے ہیں، یہ عقیدہ کسی کا نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم