قرآن کریم میں لفظ 'مردود' کے استعمال پر اعتراض کا جواب
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: (۲) لفظ مردود عام اردو زبان میں گالی کو کہا جاتا ہے اور یہ گندالفظ ہے اور قرآن پاک وصاف ہے لہذا مردود کا لفظ قرآن میں نہیں آنا چاہئے اور یہ لفظ قرآن میں موجود ہے۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(۲) یہ زید کی جاہلانہ بکواس ہے مردو د اردو میں سب و شتم کے طور پر بولا جاتا ہے اس سے کیا ضرور کہ عربی میں بھی اسی طرح استعمال ہو یہ قرآن پہ اعتراض کرنے چلا ، تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۲۸۱–۲۸۳
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
حضور ﷺ کے لیے علم غیب کا ثبوت اور منکر کا حکم
باب: کتاب العقائد
ذکرِ خیر کی محفل میں حضور ﷺ کی تشریف آوری کا بیان
باب: کتاب العقائد
گستاخ رسول اور غلط تاویل احادیث و کلمہ طیبہ کرنے والے کا حکم
باب: کتاب العقائد
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ جسمانی و روحانی اور صلاۃ و سلام کا ثبوت
باب: کتاب العقائد
عصمتِ انبیاء علیہم السلام کا انکار کرنے والے اور اس کے پیچھے نماز کا حکم
باب: کتاب العقائد