نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ جسمانی و روحانی اور صلاۃ و سلام کا ثبوت
جب حیات تھے اور حامل وحی تھے تو صلاۃ وسلام پڑھا جاتا تھا اب کون نئے نبی ہیں جن پر سلام پڑھیں اب سلام نہیں پڑھنے دینگے بکر کے اس سوال کا زید جواب دینا ہی چاہ رہے تھے کہ گاؤں کے پٹیل عمر نے یہ کہہ کر روک دیا کہ سلام مت پڑھو یہاں نیا چلن نہیں ہوگا نیز سلام نہیں پڑھا جا سکتا اور اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس بارے میں شریعت نبویہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا کیا فیصلہ ہے نیز ایسے الفاظ ادا کرنے والوں کے لئے کیا حکم ہے مع دلیل قرآن و سنن وضاحت فرما کر ممنون فرمایا جائے عین کرم ہوگا بینوا من الكتاب و تو جر واعند رب الا رباب۔ لمستفتی: عیسی ابراهیم پر بھاس پاٹن کاٹھیاواڑ جو نا گڑھ سوراشٹر
الجواب: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بلاشبہ زندہ ہیں اور ان کی حیات بالا جماع حقیقی جسمانی روحانی ہے یہی حکم دوسرے انبیاء کا ہے اور ان کی حیات پر قرآن وحدیث ناطق ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ (1) ط یعنی اللہ انھیں دنیا میں عذاب نہ دیگا جب تک اے محبوب تم ان میں ہو۔ حدیث میں ہے: ان الله حرم على الارض ان تأكل اجساد الانبیاء فنبی الله حي يرزق “(۲) اللہ نے حرام فرمایا ہے زمین پر کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے تو اللہ کے نبی اپنے مرقد میں زندہ ہیں انھیں رزق ملتا ہے۔ (۱) سورة الانفال : ٣٣ (۲) سنن ابن ماجه، کتاب الجنائز باب ذکر وفاته و دفنه صلى الله عليه وسلم . ص ۱۱۹، مطبع ایچ ایم سعید کمپنی ،کراچی، مشكوة المصابيح كتاب الصلوة باب الجمعة الفصل الثالث ص ۱۲۱، مطبع مجلس برکات مبارکپور اعظم گڑھ محقق محدث دہلوی علیہ الرحمہ اقرب السبل میں فرماتے ہیں : و با چندیں اختلافات و کثرت مذاہب که در علمائے امت است یک کس را در میں مسئلہ خلاف نیست کہ آں حضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بحقیقت حیات بے شائبہ مجاز و تو ہم تاویل دائم و باقیست و براعمال امت حاضر و ناظر و مر طالبان حقیقت را ومتوجهان آں حضرت را مفیض و مربی است (۱) بلکہ خود وہابیہ دیابنہ کے مستند و معتمد مولوی اعجاز علی دیو بندی حاشیہ ” نور الایضاح میں رقم طراز ہیں : ” فمثله صلى الله تعالى عليه وسلم بعد وفاته كمثل شمع في حجرة اغلق بابها فهو مستور عمن هو خارج الحجرة ولكن نوره كما كان بل ازيد ولهذا حرم نکاح ازواجه بعده صلی الله تعالى عليه وسلم ولم يجر احکام المیراث فیماترکه (۲) خلاصہ اس عبارت کا یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مثال قبر میں اس چراغ کی سی ہے جو کمرہ میں بند ہومگر حضور کا نور ویسا ہی ظاہر ہے بلکہ اور زیادہ اسی وجہ سے حضور کی بیویاں بعد وصال بھی اوروں کے لئے حرام ہیں اور حضور کا ترکہ نہ بٹا۔ جس شخص نے یہ کہا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اب حیات سے نہیں ہیں اس نے اہل سنت کے مسئلہ اجماعیہ کا انکار کیا لہذا اس پر تو بہ لازم ہے اور یہی حکم اس کا ہے جو اس کے اس مقولے سے راضی ہو اور یہ صراحہ جہالت ہے کہ اب سلام نہیں پڑھنے دینگے قرآن عظیم میں مطلق صلاۃ وسلام کا حکم دیا کسی زمانہ اور کیفیت کے ساتھ مقید نہ فرمایا تو ہم مقید کرنے والے کون؟ ۔ سلام سے ایسے ہی دشمنی ہے تو نماز چھوڑ دیں کہ اس میں السلام علیک ایها النبی و رحمة الله و بركاته اور اللهم صل على سیدنا محمد-الخ بلکہ اس کے طور پر کلمہ ہی بدلنا لازم کہ اب اس کے طور پر محمد رسول اللہ کہنا بیج نہیں کہ اب معاذ اللہ اس کے طور پر حیات نہیں اور حامل وحی نہیں مگر کلمہ اب بھی جاری ہے تو ثابت کہ حضور کی (1) اقرب السبل بالتوجه الى سيد الرسل برهامش اخبار الاخیار از شیخ عبدالحق محدث دهلوی ص ۱۵۵، مطبع مجتبائی دهلی (r) حاشیه نورالایضاح از مولوی اعجاز ،على فصل في زيارة النبي صلى الله تعالى عليه وسلم ص ۱۸۹، مطبع مکتبه بلال دیوبند رسالت باقی اور حین حیات باقی ہے تو ذات کی حیات آپ ثابت ہے واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خان قادری از هری غفرله صح الجواب والمولى تعالی اعلم ۶ ر رمضان المبارک ۱۳۹۸ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام بریلی شریف