حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اہانت کرنے والا کافر ہے
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اہانت کرنے والا کافر ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص اپنے مسلمان ہونے کا دعوی بڑے زور وشور سے کرتا ہے اور جو شخص اس کو مسلمان نہ کہے اس سے لڑنے جھگڑنے پر آمادہ رہتا ہے لیکن حضور فداہ ابی و امی مد عربی کی مدنی" کی شان میں یہ گستاخی کرتا ہے کہ آپ کو شیطان لعین و مردود سے بعض امور میں تشبیہ دیتا ہے ایسے شخص کے اسلام کے بارے میں آپ کا کیا فیصلہ ہے؟ دلائل کی روشنی میں جواب دے کر عنداللہ ماجور اور عند الناس مشکور ہوں ۔ آیا اسے مسلمان کہا جا سکتا ہے یا نہیں جواب پر آپ کا دستخط اور دار الافتاء کی مہر ضرور ہو، تاکہ غیر مقلدین، وہابیہ دیوبندیہ کے سامنے پیش ہو تو اسے جعلی کہ کر انکار نہ کرسکیں ۔ فقط ، والسلام ! طالب الحق بنارسی
سئله - ۱۱۲ فقیر محمد اختر رضا خان قادری از هری غفرله صح الجواب والمولى تعالی اعلم ۶ ر رمضان المبارک ۱۳۹۸ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام بریلی شریف حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اہانت کرنے والا کافر ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص اپنے مسلمان ہونے کا دعوی بڑے زور وشور سے کرتا ہے اور جو شخص اس کو مسلمان نہ کہے اس سے لڑنے جھگڑنے پر آمادہ رہتا ہے لیکن حضور فداہ ابی و امی مد عربی کی مدنی" کی شان میں یہ گستاخی کرتا ہے کہ آپ کو شیطان لعین و مردود سے بعض امور میں تشبیہ دیتا ہے ایسے شخص کے اسلام کے بارے میں آپ کا کیا فیصلہ ہے؟ دلائل کی روشنی میں جواب دے کر عنداللہ ماجور اور عند الناس مشکور ہوں ۔ آیا اسے مسلمان کہا جا سکتا ہے یا نہیں جواب پر آپ کا دستخط اور دار الافتاء کی مہر ضرور ہو، تاکہ غیر مقلدین، وہابیہ دیوبندیہ کے سامنے پیش ہو تو اسے جعلی کہ کر انکار نہ کرسکیں ۔ فقط ، والسلام ! طالب الحق بنارسی الجواب: ایسا شخص بلا شبہ کافر، مرتد، بے دین ہے کہ معاذ اللہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تنقیص شان کرتا ہے اور حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور جملہ انبیاے کرام کی تنقیص تصریحا ہو خواہ اشارۃ، جماہیر امت مسلمہ کے نزدیک کفر ہے۔ شفا شریف میں ہے: اعلم وفقنا الله و ایاک ان جميع من سب النبی صلی الله تعالی علیه وسلم او عابه او الحق به نقصا فی نفسه او نسبه او دینه او خصلة من خصاله او عرض به او شبهه بشیء علی طريق السب له او الازراء عليه او التصغيير لشانه او الغض منه والعيب له فهوساب له والحكم فيه حكم الساب يقتل كما نبينه ولا نستثنى فصلا من فصول هذا الباب على هذا المقصد ولا نمترى فيه تصریحا کان او تلویحا (۱) شیطان سے تشبیہ دینا تو بڑی سخت بات ہے علمائے کرام نے ایسے شخص کو بھی کا فرفرمایا ہے جس کے پاس سے ایک بدصورت گزرے تو وہ لوگوں سے کہے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا حلیہ جاننا چاہوتو اسے دیکھ لو۔ اسی شفا میں ہے: وو وافتی محمد بن ابی زید بقتل رجل سمع قوما يتذاكرون صفة النبی صلی اللہ تعالیٰ عليه وسلم اذ مر بهم رجل قبيح الوجه واللحية فقال لهم الى آخره (۲) اس شخص پر تو به تجدید ایمان وتجدید نکاح لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم تنبیہ : پورا در و دلکھنا ضروری ہے۔ ”ع“ یا ”ص“ وغیرہ بنانا حرام اور محروموں کا کام ہے۔ فقیر محمد اختر رضا خان قادری از هری غفرله ۱۰ ؍ ربیع الاول ۱۳۸۹ ھ صبح الجواب۔ والمولی تعالی اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام بریلی شریف (1) (۲) الشفا : ج ۲، ص ۳۵۵ الباب الاول فی بیان ما هو فى حقه صلى الله عليه وسلم سب او نقص الخ، مطبع المكتبة العصرية بيروت لبنان الشفابتعريف حقوق المصطفى ج ۲، ص ۳۵۶ الباب الاول في بيان ما هو في حقه صلى الله عليه وسلم سب او نقص المكتبة العصرية بيروت لبنان